نجم الہدیٰ — Page 78
روحانی خزائن جلد ۱۴۔ ZA نجم الهدى أنه يكسر الصليب بالمسيح الموعود * ويتم ما مسیح موعود ہو کے ساتھ صلیب کو توڑے گا اور اپنے سبق من العهود ، وإن الله لا يُخلف الميعاد عہدوں کو پورا کرے گا اور خدا تعالیٰ تخلف وعدہ نہیں کرتا۔ قد جرت عادت الله بانه يستأنف لا خدا تعالیٰ کی عادت یوں جاری ہوئی ہے کہ للتجديد عزيمة جديدة عند تطرق الفساد وہ بروقت کسی فساد کے تجدید دین کے لئے از سرنو الى قلوب العباد۔ فلاجل ذالک تجلی توجہ فرماتا ہے۔ پس اسی لئے اس نے میرے پر على لينفخ الروح في الاجساد و جعلنی تجلی کی تا کہ اجساد میں روح پھونکے اور مجھے مسیح مسیحا و مهدیا و ارشدنی بکمال اور مہدی بنایا اور تمام سامان رشد کا مجھے عطا الــرشــاد۔ ووصانی بقول لین و ترک فرمایا اور مجھے وصیت کی کہ میں نرم زبانی اختیار الشدة والاتقاد۔ و اما كسر الصليب فقد کروں اور حتی اور افروختہ ہونے کو چھوڑ دوں۔ اسـتـعـمـل هـذا الـلـفـظ في الاحاديث ۔ مگر کسر صلیب کا لفظ جو حد یثوں میں آیا ہے وہ والآثار۔ تجوزًا من الله القهار۔ وما يُعنى به بطور مجاز کے استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد حرب و غزاة وكسر الصلبان فی کوئی جنگ یا دینی لڑائی اور در حقیقت صلیب کا الحقيقة۔ و من زعم کذالک فقد ضل و تو ڑنا نہیں ہے اور جس شخص نے ایسا خیال کیا بـعـد مـن الـطـريـقـة بل المراد منه اتمام اس نے خطا کی ہے بلکہ اس لفظ سے مراد الحجة على الملة النصرانية۔ وكسر شان عیسائی مذہب پر حجت پوری کرنا اور دلائل واضح الصليب و تكذيب امرہ بالادلة کے ساتھ صلیب کی شان کو توڑنا که از واسطه مسیح موعود صلیب را خواهد شکست و خدا ہرگز خلاف وعده خود نکند ۔ اعاده الهیه باین طور جاری است که در هنگام فساد دلها از سر نور وے به تجدید دین آرد ۔ لہذا بر من تجلی فرمود تا روح در کالبد با بدید و مرا مسیح و مهدی کرد و همه ساز و برگ رشد بر من ارزانی داشت و برائے گفتار نرم و ترک سختی و اشتعال امر نمود - ولفظ کسر صلیب در احادیث و آثار مجاز ااطلاق شده و مراد ازاں جنگ و پیکار دینی و حقیقته شکستن صلیب نیست ہر کہ حمل بر ظاهرش کند از راه راست دور است بلکه مراد ازان اتمام حجت بر مله نصاری ہے۔