نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 550

نجم الہدیٰ — Page 79

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۷۹ نجم الهدى 3 ويـفـعـل مـا أراد ۔ فكان من مقتضى اور جو کچھ چاہتا ہے ظہور میں لاتا ہے پس یہ وعدہ کا الوعد أن يُرسل مسیحه لكسر مقتضا تھا کہ وہ کسر صلیب کے لئے اپنے مسیح کو سلیب علا، والكريم إذا وعد وفا بھیجے۔ اور کریم جب وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے۔ الواضحة والحجج البينة۔ وانا أمرنا ان اور ہمیں حکم ہے کہ ہم نرمی اور علم کے ساتھ حجت کو نتـم الـحـجـة بالرفق والحلم والتؤدة ۔ 3 پوری کریں۔ اور بدی کے عوض میں بدی نہ کریں مگر اس صورت میں جب کوئی شخص رسول اللہ ولاندفع السيئة بالسيئة الا اذا كثرسب صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور اہانت کرنے اور فحش گوئی میں حد سے بڑھ جائے ۔ پس ہم عیسائیوں کو گالی نہیں دیتے۔ اور دشنام اور بخش گوئی اور ہتک عزت سے پیش نہیں آتے اور ہم صرف بقية الحاشية رسول الله و بلغ الامر الى القذف و كمال الاهانة فلا نسب احدا من النصارى۔ ولا نتصدى لهم بالشتم والقذف وهتك الاعراض ۔ وانـمـا ان لوگوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہمارے نبی نقصد شطر الذين سبوا نبينا صلى الله صلی اللہ علیہ وسلم کو بصراحت یا اشارات سے عليه وسلم وبالغوافيه بالتصريح | گالیاں دیتے ہیں۔ اور ہم ان پادری صاحبوں کی او الايماض۔ ونكرم قسوسا لا يسبون | عزت کرتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۱۵ ولا يقذفون رسولنا كالارازل و العامة۔ کو گالیاں نہیں دیتے اور ایسے دلوں کو جو اس ۱۵ ونعظم القلوب المنزهة عن هذه پلیدی سے پاک ہیں ہم قابل تعظیم سمجھتے ہیں اور العذرة۔ و نذكرهم بالاكرام و التكرمة۔ تعظیم و تکریم کے ساتھ ان کا نام لیتے ہیں۔اور | فليس في بيان منا حرف ولانقطة | ہمارے کسی بیان میں کوئی ایسا حرف اور نقطہ و هر چه خواهد بالظهور آرد و مقتضائے وعدہ آن بود که مسیح خود را جهت شکستن صلیب بفرستند و کریم را عادت است و کسر شاں صلیب و تکذیب امرش با دلائل روشن است و ما ماموریم بایں کہ بانرمی و بردباری اتمام حجت بکنیم و در جائے بد بد روئے کار نیاریم بلے ہر گاہ کسے رسول کریم ما را بد بگوید البتہ اور ا پاسخ درشت می دهیم - مانصاری را دشنام نمی دهیم و زنهار در پوستین شان در نمی افتیم و روئے ہمت ما مخصوصاً متوجه بانها است که با شاره و صراحت سید و آقائے مارا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دشنام دہند ۔ ما کشیشا نے را که عادت مستقلا گفتن ندارند بزرگ داریم ۔ ودلہائے را که از این گندگی و ناپاکی پاک اند احترام واجب دانیم و نام شان به نیکی بر زبان آریم (10) بقیه حاشیه