منن الرحمٰن — Page 240
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۴۰ منن الرح في ايدينا و مرتعدين۔ و انا لملاقوهم بعون الله ذي الجلال ولو فروا على لاحقة کانپتے ہوئے بھاگیں گے اور ہم بفضلہ تعالی تعاقب کر کے ان کو جا ملیں گے اور ان کو جائے گریز نہیں اگر چہ الآطـال ۔ ثم مفروهم محجرين۔ ولا مناص لهم ولو نزوا في السکاک۔ الا بعد وہ پتلی کمر والے گھوڑوں پر دوڑے ہوں پھر ہم زور دیں گے تا وہ بھاگیں یہاں تک کہ بھاگتے بھاگتے سواد الوجه والاحليلاک و اذا اشرعنا الرمح على العدا۔ و ارينا المدى سوراخ میں جاگھسیں اور جب ہم نے نیزو کو دشمنوں پر ہلایا اور کار دیں دکھلائیں اور موت کے گھوڑوں کو وعبطنا افراس الردا۔ فترى انهم يبدون نواجذهم غير ضاحكين۔ وما كتبت من | سرپٹ دوڑ ایا پس تو انہیں دیکھے گا کہ بغیر ہننے کے دانت نکال رہے ہیں اور میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھا عندى ولكن الهمني ربّی و ایدنى فى امرى فتاقت نفسى الى ان افض ختم | بلکہ میرے خدا نے مجھے الہام کیا اور میرے امر میں مجھے تائید کی پس میرے نفس نے خواہش کی کہ میں اس بھید کی السر۔ و أرى الخلق ما ارانى ذو الفضل والنصر و انه ذو الفضل المبين۔ مہر کھولوں اور لوگوں کو وہ معارف دکھلاؤں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دکھلائے اور وہ صاحب فضل مبین کا ہے ۔ وحاصل ما كتبنا في هذه المقدمة ان العربية أمّ الالسنة و وحى ا اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا ماحصل یہ ہے کہ عربی اُم الالسنہ ہے اور خد اتعالیٰ کی وحی ہے جو صاحب مسجد اور هذا الله ذي المجد والعزة و غيرها كرش من هذه المطرة القاشرة۔ و ما لها سبد ولا لبد الا من عزت ہے اور دوسری زبانیں اس بزرگ مینہ میں سے چند قطرے ہیں اور ان کا قلیل و کثیر تمام اسی زبان میں سے ہے اور هذه اللهجة۔ وان العربية تقسم الامور وضعًا كما قسمها الله طبعًا وفي ذلك عربی زبان وضع کی رو سے امور کو ایسے طور سے تقسیم کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں طبعی تقسیم کی ہے اور اس میں ايـات لـلـمـتـوسـمـين۔ وانها تجرى في كل سكك بهذا الاشتراط و تتجافی عن فراست والوں کے لئے نشان ہے اور وہ ہر ایک کو چہ میں اس شرط سے چلتی ہے اور تجاوز سے پر ہیز کرتی ہے اور خدا تعالیٰ الاشتطاط و نزههـا الـلـه عـن ضيق الربع۔ و وسع مربعهـا لاضـيـاف الطبع نے اس کو گھر کے تنگ ہونے سے پاک کر دیا ہے اور اس کے گھر کو طبع کے مہمانوں کے لئے وسیع کر دیا ہے