منن الرحمٰن — Page 225
۲۲۵ روحانی خزائن جلد ۹ ان اهل تلك الالسنة واللغات المتفرقة۔ قوم تطاول عليهم زمان الغي کہ ان زبانوں اور لغت والی وہ قوم ہے جن پر گمراہی اور خذلان کا لمبازمانہ گذر گیا۔ اور ان کی خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے مدد والخذلان۔ وما اعانتهم يد الرحمان۔ وما وجدوا ما يجد اهل الحق والعرفان نہ کی ۔ اور انہوں نے اس حقیقت کو نہ پایا جو حق اور معرفت کے اہل پاتے ہیں سوانہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زبان کو فـحـلـوا السنتهم بايديهم لا بايدى الفياض المنان۔ فكان غاية سعيهم ان ينحتوا آراستہ کیا اور خدا تعالیٰ کے ہاتھوں سے اس زبان سے آرائش نہیں پائی پس ان کی سعی زیادہ سے زیادہ یہ تھی کہ مفردات بازاء مفردات انواع ترکیبات ففرحوا بحيلة فاسدة مصنوعة۔ وبعدوا من ثمار کے مقابل پر ترکیبات کو گھڑیں پس وہ ایک حیلہ فاسد بناوٹی کے ساتھ خوش ہو گئے اور ایسے لطیف پھلوں سے دور جا پڑے لطيفة لا مقطوعة ولا ممنوعة نافعة للأكلين۔ فبدت سوئتهم لاجل منقصة | جو نہ کاٹے جائیں اور نہ منع کئے جائیں جو عقلمندوں کو نفع دیتے تھے پس باعث ناقص ہونے زبان کے ان کا عیب کھل گیا اللغات وانتقاص المفردات۔ وظهر انهم كانوا كاذبين۔ وكانوا يحمدون اور مفردات کی کمی نے ان کی پردہ دری کی اور یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وہ جھوٹے تھے۔ اور وہ لوگ اپنی زبانوں کی ایسے غلو سے السنتهم بصفات لا تستحق بها وكانوا فيها مفرطين فهتک الله اسرارهم | تعریف کرتے تھے جن کی وہ حق دار نہیں تھی اور ان بے جا تعریفوں میں حد سے زیادہ گذر گئے تھے سو خدا تعالیٰ نے ان واذاقهم استکبار هم بما كانوا معتدين و تراهم يعادون الحق والفرقان ولا کے پردے پھاڑ دیئے اور ان کو ان کے تکبر کا مزہ چکھایا کیونکہ وہ حد سے زیادہ گذر گئے تھے اور تو انہیں دیکھتا ہے کہ وہ يقبلون المحمود والمشهود والعيان ولا يتركون الحقد والعدوان و يمشون حق اور فرقان کے دشمن ہیں اور کینہ اور ظلم کو نہیں چھوڑتے اور اندھوں کی طرح چلتے ہیں خاص کر کہ ہندولوگ کہ ان کی كالعمين ۔ سيما الهنود فان سيرتهم الصدود و زادهم العنود وهم المزهوون۔ لا سیرت حق سے روکنا ہے اور ان کا عناد حد سے بڑھ گیا ہے اور عجب اور خود پسندی ان میں بہت ہے۔ خدا تعالیٰ سے يخشون ولا يتواضعون ولا يتدبّرون كالخاشعين۔ وظنوا ان لغتهم اكمل اللغات۔ نہیں ڈرتے اور نہ تواضع اختیار کرتے ہیں اور نہ ڈرنے والوں کی طرح تدبر کرتے ہیں اور ان کا گمان ہے جو ان کی