منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 581

منن الرحمٰن — Page 219

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۱۹ منن الرحمن ا حلل الالفاظ للطالبين۔ فهذه هي العربية۔ وخصت بها هذه الفضيلة هي (۷۵) اور طلب گاروں کے لئے الفاظ کے عطا کرے پس یہ زبان عربی ہے اور یہ فضیلت اس کے ساتھ خاص کی گئی ہے التي اعطى اللـه لـه نـظـامـا كاملا في المفردات۔ وجعل دائرتها مساوية یہ وہی زبان ہے جس کو خدا تعالیٰ نے مفردات میں کامل نظام بخشا ہے اور اس کے دائروں کو ضرورتوں کے بالضرورات و لاجل ذلك احاطت دقائق الافعال۔ و أرت تصوير الضمائر ساتھ برابر کر دیا ہے اور اسی واسطے یہ عربی بار یک معانی کے الفاظ پر مشتمل ہے اور ضمیروں کی تمام و کمال بالتمام والكمال كالمصوّرين وان اردنا ان نكتب فيه قصة۔ او نملى تصویروں کو دکھلا رہی ہے جیسا کہ مصور دکھلاتے ہیں ۔ اور اگر ہم عربی زبان میں کوئی قصہ لکھنا چا ہیں یا کوئی حكاية او واقعةً او نؤلف كتابًا فى الالهيات۔ فلا نحتاج الى المركبات ولا حکایت یا واقعہ لکھیں یا کوئی کتاب الہیات میں تحریر کریں تو ہم مرکبات کی طرف محتاج نہیں ہوتے اور ہم نضطر ان نورد التركيبات مورد المفردات كالهائمين المتخبطين۔ بل اس بات کی طرف بے قرار نہیں ہوتے کہ ترکیبات کو مفردات کی جگہ میں لاویں بلکہ ہمیں عربی کا نظام کامل يمدنا نظامه الكامل في كل ميدان ومضمار ۔ ونجد مفرداتها كحلل كاملة | ہر یک میدان میں مدد دیتا ہے اور ہم اس کے مفردات کو معانی اور اسرار کے لئے کامل لباسوں کی طرح الانواع مـعـانـي واسرار ۔ و لا نجدها في مقام کابكم غير مبين۔ وذلك پاتے ہیں ۔ اور ہم اس کو کسی مقام میں گونگے کی طرح نہیں پاتے اور یہ اس لئے کہ اس کا نظام کامل ہے اس لكمال نظامها و علوّ مقامها و غزارة موادها و كثرة افرادها۔ وتناسبها کا مقام عالی ہے اس کے مواد بہت ہیں اس کے مفردات زیادہ ہیں اس میں تناسب اور سامان بہت ہے ورشادها و اطراد اشتقاقها واتحاد انتساقها ولكونها متساوية بأمال | اس کا اشتقاق لمبا ہے اس کے انتساق میں اتحاد ہے اور وہ امیدوں کے سلسلہ سے برابر ہے اور قانون الأملين۔ وان صحيفة القدرة و مواد هذه اللهجة قد صدغتا كثورى فلاحة | قدرت اور اس زبان کے مواد دوش بدوش چلے جاتے ہیں جیسے کلبہ رانی کے دو بیل یا ایک سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ بمطابق عربی عبارت ترجمہ میں الفاظ کے حلل “ہونا چاہیے۔(ناشر )