منن الرحمٰن — Page 212
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۱۲ منن الرحمن من الازمنة الثلاثة۔ فجوابه ان ذلك اصطلاح لهذه الفرقة۔ ولا اعتبار به رکھتے ہیں پس جو اب اس کا یہ ہے کہ یہ اس فرقہ کی اصطلاح ہے اور جب ہم حقیقی طور پر نظر عند نظر الحقيقة فانظر كالمبصرين۔ وان قيل ان المشهور بين العامة من کریں تو یہ اصطلاح ساقط الاعتبار ہو گی پس دیکھنے والوں کی طرح سوچ ۔ اور اگر کوئی کہے اهل الملة۔ ان الله علم ادم جميع اللغات المختلفة۔ فكان ينطق بكل لغت کہ عوام مسلمانوں میں تو یہ مشہور ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم کو تمام بولیاں سکھا دی تھیں اور من العربية والفارسية وغيرها من الالسنة فجوابه ان هذا خطأ نشأ من وہ ہر یک بولی عربی فارسی وغیرہ بولتا تھا پس اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خطا ہے اور اس کی الغفلة۔ لا يلتفت اليه احد من اهل الخبرة بما خالف امرا ثبت بالبداهة۔ طرف کو ئی عقلمند توجہ نہیں کرے گا کیونکہ یہ بد یہی الثبو ت امر کے مخالف ہے اور بے خبروں کا وما هو الا زعم الغافلين۔ بل العربية هي اللسان من مستانف الايام | گمان باطل ہے بلکہ پہلی زبان اور پہلے زمانہ کی بولی صرف عربی ہے اور اس کا غیر اس کا ۔ ۔ و مستطرفها وليس غيرها الا كمرجان من درر صدفها وانت تعلم ان مال موروثی ہے ۔ یا کوئی چھوٹا سا موتی اس کے موتیوں میں سے ہے اور تو جانتا ہے کہ القرآن والتورات قد اثبتا ما قلنا واكملا الاثبات الا تعلم ما جاء في قرآن اور تورات نے جو کچھ ہم نے کہا وہ ثابت کر دیا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ تو ریت الاصحاح الحادى العشر من التكوين۔ فانه شهد ان اللسان كانت کتاب پیدائش گیا رھویں باب میں لکھا ہے کہ ابتدا میں تمام زمین کی بولی ایک تھی پھر جب واحدة في الارضين۔ ثم اختلفوا ببابل معرقين۔ و اما القرآن فقد سبق فيه وہ عراق عرب میں داخل ہوئی ۔ تو بابل شہر میں بولیوں میں اختلاف پڑا اور قرآن کا بیان البيان۔ ففكر كالمحققين۔ ثم ههنا طريق آخر لطلاب الحق تو تو سن چکا ۔ پس تحقیق کرنے والوں کی طرح سوچ ۔ پھر اس جگہ ایک اور طریق ثبوت حق