منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 581

منن الرحمٰن — Page 190

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۰ منن م وتخصيص العربية بأحسن البيان۔ وتعليمها لأدم لينتفع به نوع اور عربی کو بلاغت فصاحت کے ساتھ مخصوص کرنا اور آدم کو عربی کی تعلیم دینا تا نوع انسان اس سے منتفع ہو ہو الانسان۔ فانها مخزن علوم عالية وهدايات ابدية من المنّان كما لا کیونکہ عربی علوم عالیہ کی مخزن ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ابدی ہدا یتیں ہیں جیسا کہ تدبر کرنے يخفى على المتدبرين۔ والوں پر پوشیدہ نہیں ۔ فالحاصل انه ذكر اوّلا نعمة القرآن، ثم ذكر نعمة أخرى التي پس حاصل کلام یہ ہے کہ اول خدا تعالیٰ نے فرقان کی نعمت کو ذکر کیا ہے پھر اس دوسری نعمت کو ذکر کیا هي لها كالبنيان ۔ واشار اليها بلفظ البيان۔ ليعلم انها هو العربي المبين۔ جو اس کے لئے بنیاد کی طرح ہے اور اس بات کی طرف بیان کے لفظ کے ساتھ اشارہ کیا تا معلوم ہو کہ اس صفت فان القرآن ما جعل البيان صفة احد من الالسنة من دون هذه اللهجة۔ سے موصوف عربی زبان ہے کیونکہ قرآن نے بیان کے لفظ کو بجز عربی کے کسی زبان کی صفت نہیں ٹھہرایا پس فات قرينة اقوى و ادلّ من هذه القرينة لو كنتم متفكرين الا ترى أنّ | کون سا قرینہ اس قرینہ سے زیادہ قوی اور زیادہ دلالت کرنے والا ہے اگر تم فکر کرنے والے ہو۔ کیا تو نہیں القرآن سمى غير العربية اعجميا فمن الغباوة ان تجعلها للعربية | جانتا کہ قرآن نے غیر زبانوں کا نام انجمی رکھا ہے پس نادانی ہوگی کہ ان زبانوں کو عربی کا ہمنام اور ہم رتبہ سميًا۔ فافهم ان كنت زكيا و لا تكن من المعرضين۔ والنص صريح وما ٹھہرایا جائے پس اگر تو ز کی ہے تو سمجھ لے اور کنارہ کرنے والوں سے مت ہوا اور نہیں صریح ہے اور کوئی اس سے ينكره الا وقيح من المعاندين۔ انکار نہیں کرے گا مگر بے حیا جو معاندوں میں سے ہوگا ۔ و منها ما قال ذوالمجد والعزّة في آية بعد هذه اور ان آیتوں میں سے ، ایک وہ آیت ہے جو خدائے ذوالمجد والعزت نے بعد اس