منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 581

منن الرحمٰن — Page 191

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۹۱ منن الآية اعنى قول الله الحنان۔ اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، فانظر الى ما (٢٧) آیت کے ذکر فرمائی ہے یعنی خدائے بزرگ اور مہربان کا یہ قول کہ الشمس والقمر بحسبان قال الرحمان۔ وفـكـر كـذى العقل والامعان۔ وتذكر پس اس مضمون کو سوچ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا اور عقلمندوں اور سوچنے والوں کی طرح غور کر كالمسترشدين ۔ فانّ هذه الآية تؤيّد ايةً اولى۔ و يفسّر معناها بتفسير اور رشد کے طالبوں کی طرح یا ذکر کیونکہ یہ آیت پہلی آیت کی تائید کرتی ہے اور ایک کھلی کھلی اجلی كما لا يخفى على المفكرين و بيانه ان الشمس والقمر تفسیر کے ساتھ اس کے معنی بیان کرتی ہے جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور بیان اس کا یہ يجريان متعاقبين۔ ويحملان نورًا واحدًا في اللونين۔ وكذلك العربية | ہے کہ آفتاب اور چاند ایک دوسرے کے متعاقب چلتے ہیں اور ایک ہی نور کو دو رنگوں میں والقرآن فانهما تعاقبا واتحدا البروق واللمعان۔ اما القرآن فهو اٹھائے پھرتے ہیں ۔ اور یہی مثال عربی اور قرآن کی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد چل كالشارق المنير۔ والعربية كالبدر المستنير۔ ومعذلك ترى العربية | رہے ہیں اور روشنی اور چمک میں اتحا د ر کھتے ہیں سو قرآن تو مہر تاباں کی طرح ہے اور عربی اسرع في المسير و اجراى على لسان الصالح والشرير۔ و ما كانت ماہتاب کی طرح اور با وصف اس کے عربی سیر میں تیز رو ہے اور نیک اور بد کی زبان پر زیادہ شمس القرآن ان تدرك هذا القمر وكذلك قدر الله هذا الامر۔ جاری ہو گئی ہے اور قرآن کا آفتاب اس کی حرکت کو نہیں پہنچا اور خدا تعالیٰ نے اس امر کو اسی وانهما بحسبان۔ ويجريان كما أجريا ولا يبغيان۔ بحساب مقدر من طرح مقدر کیا اور وہ دونوں ایک حساب پر چل رہے ہیں اور جیسا کہ چلا یا گیا ویسا ہی چل رہے الرحمن۔ فترى ان القرآن يجرى برعاية انواع الاستعداد ۔ ہیں اور اپنے اپنے اندازہ سے کم و بیش نہیں ہوتے ۔ سو قرآن تو استعدادوں کے لحاظ پر چلتا ہے الرحمن : ٦ ۔