منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 581

منن الرحمٰن — Page 159

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۵۹ منن الرحمن ككُل غبي اسير الجهلات و محبوس الخزعبلات و ما اصررت على باطل جیسا کہ ہر یک کند ذہن جو جہل اور باطل میں مقید ہو قناعت کرتا ہے اور کبھی میں نے بے اصل ہاتوں پر اصرار نہ کیا بـقـيـه حاشيه : محرف و مبدل ہیں اور ان کا ایسا بیان جو حق اور حقیقت کے برخلاف ہے ہرگز پذیرائی کے لائق نہیں کیونکہ اب وہ کتا ہیں ایک گندے کیچڑ کی طرح ہیں جس سے پاک طبع انسان کو پر ہیز کرنا چاہیے اور پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ توریت میں بعض جگہ ایسے لفظ موجود تھے تو ممکن ہے کہ ان کے اور بھی معنے ہوں جو باپ کے معنے سے بالکل مخالف ہوں کیونکہ الفاظ کے معنوں میں وسعت ہوا کرتی ہے پھر اگر قبول بھی کریں کہ اس لغت کے ایک ہی معنے ہیں تو اس وقت یہ جواب ہوسکتا ہے کہ چونکہ بنی اسرائیل اور بعد میں ان کی اور شاخیں اس زمانہ میں نہایت تنزل کی حالت میں تھیں اور وحشیوں کی طرح وہ زندگی بسر کرتی تھی اور اس پاک اور کامل معنی کو نہیں سمجھتی تھی جو رب کے مفہوم میں ہے اس لئے الہام الہی نے ان کی پست حالت کے موافق ایسے لفظوں سے ان کو سمجھایا جن کو وہ بخوبی سمجھ سکتے تھے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ توریت میں عالم معاد کی اچھی طرح تصریح ۱۴ کے نہیں کی گئی اور دنیا کے آراموں کی طمع دی گئی اور دنیا کی آفتوں سے ڈرایا گیا کیونکہ اس وقت وہ تو میں عالم معاد کی تفاصیل کو سمجھ نہیں سکتی تھیں پس جیسا کہ اس اجمال کا یہ نتیجہ ہوا کہ ایک قوم قیامت کی منکر یہود میں پیدا ہوگئی ایسا ہی باپ کے لفظ کا آخر کار یہ نتیجہ ہوا کہ ایک نادان قوم یعنی عیسائیوں نے ایک عاجز ہندو کو خدا بنا دیا مگر یہ تمام محاورات تنزل کے طور پر تھے چونکہ ان کتابوں کی تعلیم محدود تھی اور خدا تعالیٰ کے علم میں وہ تمام تعلیمیں جلد منسوخ ہونے والی تھیں۔ اس لئے ایسے محاورات ایک سفلہ اور پست خیال قوم کے لئے جائز رکھے گئے اور پھر جب وہ کتاب دنیا میں آئی جو حقیقی نور دکھلاتی ہے تو اس روشنی کی کچھ حاجت نہ رہی جو تاریکی سے ملی ہوئی تھی اور زمانہ اپنی اصلی حالت کی طرف رجوع کر آیا اور تمام الفاظ اپنی اصل حقیقت پر آگئے۔ یہی بھید تھا کہ قرآن کریم بلاغت فصاحت کا اعجاز لے کر آیا کیونکہ دنیا کوسخت حاجت تھی کہ زبان کی اصل وضع کا علم حاصل ہو۔ پس قرآن کریم نے ہر یک لفظ کو اس کے محل پر رکھ کر دکھلا دیا اور بلاغت اور فصاحت کو ایسے طور سے کھول دیا کہ وہ بلاغت اور فصاحت دین کی دو آنکھیں بن گئیں ۔ پہلی تو میں اس بات سے بہت ہی غفلت میں رہیں کہ وہ زبان کو دینی اسرار کے حل کرنے کی خادم بنا تیں لیکن وہ اس میں بے اختیار اور مجبور بھی تھیں کیونکہ ان کے پاس صرف بگڑی ہوئیں اور خراب حالت