منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 581

منن الرحمٰن — Page 160

17۔ روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحمن ككل جهول ضـنـيـن۔ ومـا حركني الى امر الا اعين التحقيق۔ و ما جرّنى جیسا کہ ہر یک نافہم بخیل کی عادت ہے۔ اور کبھی کسی چیز نے بھی تحقیق کی آنکھوں کے کسی امر کی طرف مجھے جنبش نہیں دی۔ اور بجز بقیه حاشیه : کی زبانیں تھیں جو مفردات اور اسماء کی وجوہ تسمیہ بیان کرنے میں گونگی تھیں مفردات کا کچھ نظام نہ تھا۔ اطراد مواد کا کچھ بھی سرمایہ نہ تھا۔ ایک گری ہوئی عمارت کی طرح اینٹیں پڑی تھیں جن کی ترتیب طبیعی کا کوئی بھی نشان باقی نہ تھا پس ان کو ایسی نالائق زبانیں کیونکر الہیات میں مدد دے سکتی تھیں اس لئے وہ تمام قو میں بلاک ہو گئیں پھر قرآن کریم ایک ایسی کامل زبان میں نازل ہوا جس میں یہ سارا سامان نظام موجود تھا اس لئے دین اسلام بگڑنے سے محفوظ رہا اور خدائے قادر کی جگہ مخلوق نے نہیں لی۔ اب اس کے بعد اگر چہ ہمارا ارادہ تھا کہ چند اور کلمات کی بھی تشریح کی جائے اور دکھلایا جائے کہ عربی کے مفردات کس قدر حقائق عالیہ اپنے اندر کھتے ہیں مگر افسوس کہ طول کے خوف سے بالفعل ہم اس مضمون کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں لیکن یہ تین سو لفظ جو ہم لکھ چکے ہیں یہ اسی غرض سے لکھے گئے ہیں تا ہمارے مخالف بھی ایسی ہی عبارتیں اپنی اپنی زبانوں میں بنا کر مثلاً ایسا ہی خطبہ اور اس کے بعد ایسی ہی تمہید کلمات مفردہ میں ہم کو لکھ کر دکھلا دیں تا ہم بھی دیکھیں کہ ان کے پاس کس قدر مفردات ہیں اور وہ اپنے مفردات کو کسی امر کے بیان میں کہاں تک نباہ سکتے ہیں اور مفردات کا نظام اپنے پاس رکھتے ہیں یا یوں ہی لاف و گزاف ہے۔ اس جگہ ہم میکس مر کے بعض شبہات اور وساوس کو بھی دور کرنا قرین مصلحت کجھتے ہیں جو اس نے اپنی کتاب لیکچر جلد اول علم اللسان کی بحث کے نیچے لکھے ہیں چنانچہ بطرز قولہ واقول کے ذیل میں تحریر ہیں۔ قوله: ترقی علم کے موانعات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض قوموں نے دوسری قوموں کو استخفاف اور تحقیر کی نگہ سے دیکھنے کے لئے ان کی نسبت حقارت آمیز القاب تراشے اس لئے وہ ان محقر قوموں کی لغات کے سیکھنے سے قاصر رہے اور جب تک یہ الفاظ جنگلی اور عجمی کہنے کے انسان کی لغات اور فرہنگ سے نہ نکالے گئے اور بجائے اس کے لفظ برادر قائم نہ ہوا ایسا ہی جب تک تمام قوموں کا یہ استحقاق تسلیم نہ کیا گیا کہ وہ ایک ہی نوع یا جنس کے ہیں اس وقت تک ہمارے اس علم اللسان کا آغاز نہ ہوا۔ اقول : صاحب راقم کی اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل ان کو اہل عرب پر اعتراض ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ جو دوسری زبان والوں کو عجمی بولتے ہیں یہ لفظ محض بخل اور تعصب کی ۱۵