منن الرحمٰن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 581

منن الرحمٰن — Page 143

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۴۳ منن الرحمن ہر یک زبان کی بلاغت فصاحت کا بھی اندازہ ہو جائے گا ماسوا اس کے چونکہ مفردات کا نظام ۱۲ ثابت کرنے کے لئے ہر یک فریق کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ صرف متفرق مفردات پیش نہ کرے بلکہ ان ضروری مضامین کے رنگ میں پیش کرے جو ہمارے مضامین کے مقابل لکھے جائیں گے ۔ لہذا اس فاضلانہ بحث میں ہر یک جاہل جو علم سے بے بہرہ ہو دخل نہیں دے سکے گا اور جیسا کہ پہلے اس سے مثلاً آریہ سماج والوں نے ایک نہایت ذلیل نادان اور سخت درجہ کے احمق اور جاہل لیکھرام نام ایک ہندو کو اسلام کے مقابل پر کھڑا کر دیا تھا اور وہ صرف گالیوں سے کام نکالتا تھا اور عیسائیوں کا چیلہ بن کر ان کے بے ہودہ اعتراض جوان کے جاہلوں نے اسلام پر کئے ہیں پیش کرتا تھا۔ اس بحث میں ایسا نہ ہوگا کیونکہ یہ علمی بحث ہے اب ایسے حرامی سیرت، گندہ طبع اور بد خو اور ساتھ اس کے سخت درجہ کے نادان اور بے علم کو بولنے کی گنجائش نہیں رہے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ ان لوگوں کی اصل حقیقت کیا تھی۔ اور ہم اس جگہ اپنے ان دوستوں کا شکر ادا کرنے سے رہ نہیں سکتے جنہوں نے ہمارے اس کام میں زبانوں کا اشتراک ثابت کرنے کے لئے مدد دی ہے ہم نہایت خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے مخلص دوستوں نے اشتراک السنہ ثابت کرنے کے لئے وہ جان فشانی کی ہے جو یقیناً اس وقت تک اس صفحہ دنیا میں یادگار رہے گی جب تک کہ یہ دنیا آبادر ہے۔ ان مردان خدا نے بڑی بہادری سے اپنے عزیز وقتوں کو ہمیں دیا ہے اور دن رات بڑی محنت اور عرق ریزی اٹھا کر اس عظیم الشان کام کو انجام دے دیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ ان کو جناب الہی میں بڑا ہی ثواب ہوگا کیونکہ وہ ایک ایسے جنگ میں شریک ہوئے جس میں عنقریب اسلام کی طرف سے فتح کے نقارے بجیں گے۔ پس ہر ایک ان میں سے الہی تمغہ پانے کا مستحق ہے۔ میں اس کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا کہ وہ کیونکر ہر ایک جلسہ میں اشتراک نکالنے کے لئے اندر ہی اندر صد ہا کوس نکل جاتے تھے اور پھر کیوں کر کامیابی کے ساتھ واپس آکر کسی لفظ مشترک کا تحفہ پیش کرتے تھے یہاں تک کہ اسی طرح دنیا