منن الرحمٰن — Page 138
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۸ منن الرحمن 10 اپنی وجودہ تسمیہ میں بڑے بڑے علوم حکمیہ پر پر مشتمل ہیں دوسری زبانیں ہرگز اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ تیسری خوبی ۔ عربی کا اطراد مواد الفاظ بھی پورانظام رکھتا ہے اور اس نظام کا دائرہ تمام افعال اور اسماء کو جو ایک ہی مادہ کے ہیں ایک سلسلہ حکمیہ میں داخل کر کے ان کے باہمی تعلقات دکھلاتا ہے اور یہ بات اس کمال کے ساتھ دوسری زبانوں میں پائی نہیں جاتی۔ چوتھی خوبی ۔ عربی کی تراکیب میں الفاظ کم اور معانی زیادہ ہیں یعنی زبان عربی الف لام اور تنو مینوں اور تقدیم تاخیر سے وہ کام نکالتی ہے جس میں دوسری زبانیں کئی فقروں کے جوڑنے کی محتاج ہوتی ہیں ۔ پانچویں خوبی ۔ عربی زبان ایسے مفردات اور تراکیب اپنے ساتھ رکھتی ہے جو انسان کے تمام بار یک دربار یک ضمائر اور خیالات کا نقشہ کھینچنے کے لئے کامل وسائل ہیں۔ اب چونکہ یہ بھاری ثبوت ہمارے ذمہ ہے کہ ہم عربی کے مفردات کا ایسا نظام کامل ثابت کریں جو دوسری کتابیں اس کے مقابلہ سے عاجزر ہیں اور نیز اس کی باقی چار خوبیوں کو بھی اسی طرح بپایہ ثبوت پہنچاویں۔ لہذا ہمارے لئے ضروری ہوا کہ ہم ان مباحث کو عربی زبان میں ہی لکھیں کیونکہ ہمارا یہ فرض ہے کہ یہ تمام خوبیاں مخالف کو دکھلاویں اور اگر وہ کسی اور زبان کو الہامی اور اُم الالسنہ قرار دیتا ہے تو اس سے ان خوبیوں کا مطالبہ کریں اور چونکہ یہ بڑا بھاری کام ہے اس لئے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ مخالف کو پورے پورے طور پر ملزم اور ساکت کرنے کے لئے کوئی ایسی تدبیر کی جائے جس سے ان سب جھوٹے عذرات کا استیصال ہو جائے جو ایک مخالف مقابلہ سے عاجز آ کر محض بے ہودہ حیلہ سازی کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ مثلاً ایک آریہ مخالف اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کہہ سکتا ہے کہ ان فضائل خمسہ میں عربی کی خصوصیت کا دعوی بے دلیل ہے کیونکہ یہ دعوی اس وقت صحیح ٹھہر سکتا ہے کہ جب کہ تمہیں سنسکرت کی پوری واقفیت ہوتی اب جبکہ سنسکرت کی ایسی واقفیت نہیں ہے تو یہ دعولی صرف یک طرفہ خیال ہے اور ممکن ہے کہ یک طرفہ خیال تحقیق کے وقت غلط نکلے اور گو ہم اس ناکارہ خیال کا جواب دے چکے ہیں کہ ہماری یہ تحقیقا تمیں ایک