منن الرحمٰن — Page 139
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۹ منن الرحمن جماعت کی تحقیقات ہے جس میں سنسکرت دان بھی ہیں لیکن اب ہم پورے طور پر اتمام حجت (۱۲) کے لئے ایک ایسا طریق فیصل لکھتے ہیں جس سے کوئی گریز نہیں کر سکتا اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم اس دعوے میں کا ذب ہیں کہ عربی میں وہ پانچ فضائل خصوصیت کے ساتھ موجود ہیں جو ہم لکھ چکے ہیں اور کوئی سنسکرت دان وغیرہ اس بات کو ثابت کر سکتا ہے کہ ان کی زبان بھی ان فضائل میں عربی کی شریک و مساوی ہے یا اس پر غالب ہے تو ہم اس کو پانچ ہزار روپیہ بلا توقف دینے کے لئے قطعی اور حتمی وعدہ کرتے ہیں۔ اور یادر ہے کہ یہ وعدہ انعام ہمارا عام لوگوں کے بے ہودہ اشتہارات کی طرح نہیں تا کوئی یہ خیال کرے کہ صرف کہنے کی باتیں ہیں کس نے دینا اور کس نے لینا۔ بلکہ ہم اعلان دیتے ہیں کہ ایسا شخص جس طرح چاہے اپنی تسلی کرلے اور اگر چاہے تو یہ روپیہ بینک سرکاری میں رکھا جائے اور چاہے تو کسی آریہ مہاجن کے پاس یہ روپیہ جمع کرا دیا جائے اگر ہم اس کی درخواست کے موافق جمع نہ کرا دیں یا درخواست کے شائع ہونے اور بذریعہ رجسٹری شدہ مخط کے ہم تک پہنچنے کے بعد ایک ماہ تک ہم رو پیدہ کو جمع نہ کر اویں تو بے شک ہم کا ذب اور لاف زن ٹھہریں گے اور ہماری ساری کارروائی پائیہ اعتبار سے گر جائے گی۔ لیکن یہ ضروری ہوگا کہ جو شخص جمع کرانے کی درخواست کرے وہ اس درخواست میں یہ بھی تحریر کر دے کہ وہ فلاں مدت تک اس کام سے عہدہ برا ہوگا اور اس بات کا اقرار کر دے کہ اگر وہ اُس مدت تک عہدہ برا نہ ہو اور مقابلہ کر کے نہ دکھلا سکا تو جو کچھ حرجانہ منصفوں یا عدالت کی تجویز سے ایک تجارتی روپیہ کی مدت مذکورہ تک بند رہنے سے متصور ہے تو وہ بلا عذ روحیلہ ادا کر دے گا۔ اور واضح ہو کہ یہ کتاب قریباً ڈیڑھ مہینہ کی محنت اور کوشش سے ہم نے تیار کی ہے چنانچہ اپریل ۱۸۹۵ء کے کچھ دن گزرے یہ کام شروع ہوا اور مئی ۱۸۹۵ء کو ابھی کچھ باقی رہتا تھا کہ انجام کو پہنچ گیا اور اس محنت کے دنوں میں پورا دن اس کام کے لئے کبھی نہیں لگا بلکہ زیادہ سے زیادہ تیسر ا یا چوتھا حصہ اس فکر میں خرچ آتا رہا اور اگر تمام روز محنت کی جاتی تو شاید ہفتہ عشرہ تک ہی یہ کام انجام تک پہنچ جاتا لیکن اب بالمقابل لکھنے والوں کے لئے یہ محنت راہ میں نہیں جو