منن الرحمٰن — Page 137
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۷ منن الرحمن نہیں ہوتی کہ کیوں انہوں نے اپنی ولایتوں کو چھوڑ دیا تھا بلکہ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ چونکہ نوح کے طوفان کے بعد خدا تعالیٰ کا ارادہ تھا کہ بہت جلد دنیا اپنی توالد تناسل میں ترقی کرے اس لئے اس قادر مطلق نے ایک مدت تک ان کو صحت اور امن کی حالت میں چھوڑ دیا تھا تب وہ بہت بڑھے اور پھولے اور ایک خارق عادت طور پر ان میں ترقی ہوئی تب بعض قوموں نے اپنے ملک میں گنجائش کم دیکھ کر مستعار کی زمین کی طرف جو بابل کی زمین تھی حرکت کی اور اس جگہ آکر اس شہر کو آباد کیا اور اس قدر کثرت ہوگئی جس کی نظیر کسی زمانہ میں ثابت نہیں ہوئی پھر وہ دوسرے شہروں کی طرف متفرق ہو گئے اور تمام دنیا میں بولیوں کا تفرقہ پڑنے کا موجب ہوئے۔ لیکن اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ زبان عربی جو اُم الالسنہ قرار دی گئی ہے اس کی نسبت تمام زبانوں کی نسبت مساوی نہیں ہے بلکہ بعض سے کم اور بعض سے زیادہ ہے مثلاً عبری زبان پر ادنی غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تھوڑے سے تغیر کے بعد عربی زبان ہی ہے لیکن سنسکرت یا یورپ کی زبانوں کے ساتھ وہ تعلق پایا نہیں جاتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ گو عبری اور دوسری شاخیں اس کی در حقیقت عربی کے تھوڑے سے تغیر سے پیدا ہوئی ہیں اور سنسکرت وغیرہ دنیا کی کل زبانیں تغیرات بعیدہ سے نکلی ہیں تاہم کامل غور کرنے اور قواعد پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ان زبانوں کے کلمات اور الفاظ مفردہ عربی سے ہی بدلا کر طرح طرح کے قالبوں میں لائے گئے ہیں۔ اور عربی کے فضائل خاصہ سے جو اسی زبان سے خصوصیت رکھتے ہیں جن کی ہم انشاء اللہ اپنے اپنے محل پر تشریح کریں گے اور جو اس کے اُم الالسنہ اور کامل اور الہامی زبان ہونے پر قطعی دلیل ہے پانچ خوبیاں ہیں جو مفصلہ ذیل ہیں۔ پہلی خوبی ۔ عربی کے مفردات کا نظام کامل ہے یعنی انسانی ضرورتوں کو وہ مفردات پوری مدد دیتے ہیں دوسرے لغات اس سے بے بہرہ ہیں۔ دوسری خوبی۔ عربی میں اسم مباری و سمام ارکان عالم و نباتات و حیوانات و جمادات واعضائے انسان اپنی