منن الرحمٰن — Page 136
روحانی خزائن جلد ۹ منن الرحمن قریب قریب ہیں پس اس تحقیق سے ثابت ہے کہ بابل عرب کی سرزمین میں تھا چنانچہ عرب کے نقشہ میں جو حال میں بیروت میں چھپا ہے بابل کو عراق عرب میں ہی دکھلایا ہے۔ اصل توریت عبرانی کتاب پیدائش آیت ایک میں یہ عبارت ہے ویہی خل ہارص شفه آحت و د بریم آحدیم اور تھی تمام زمین ہونٹ ایک اور باتیں یکساں۔ واضح ہو کہ اس تمام زمین سے مراد صرف بابل کی زمین نہیں ہو سکتی جو مستعار کے نام سے موسوم ہے کیونکہ یہ آیت اس قصہ سے پہلے اور ان قصوں سے متعلق ہے جو دسویں باب میں گذر چکی ہیں پس آیت مذکورہ کا مطلب یہ ہے کہ تمام وہ قومیں جو زمین میں رہتی تھیں ان کی ایک ہی زبان تھی اس وقت تک کہ ایک گروہ ان میں سے بابل میں نہیں پہنچا تھا پھر بابیل میں پہنچنے کے بعد خدا تعالیٰ نے ان کی زبانیں متفرق کر دیں۔ اور زبانوں میں اختلاف یوں ڈالا گیا کہ بابل کے رہنے والے مختلف ملکوں میں نکال دیئے گئے جیسا کہ اسی باب کی یہ آٹھویں آیت اس پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے و يفص يهوه آتم مِشم عَل بنی کل هارص - یعنی خدا نے ان کو وہاں سے سب زمین پر پریشان کر دیا۔ اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ بابل سے متفرق ہو کر ہر یک ملک میں چلے گئے پس کل هارص کا لفظ جو پہلی آیت میں اس بات کے ظاہر کرنے کے لئے آیا ہے کہ ساری دنیا کی ایک بولی تھی وہی لفظ آٹھویں آیت میں اس بات کے لئے مستعمل ہوا کہ بابل کے رہنے والے مورد غضب الہی ہو کر کل دنیا میں متفرق ہو گئے پس ان دونوں آیتوں کے مظاہر سے اور نیز گذشتہ باب پر نظر ڈالنے سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ مطلب ان آیات کا یہی ہے کہ بابل کے واقعہ سے پہلے دنیا میں ایک ہی بولی تھی اور یہی متفق علیہ عقیدہ یہود اور نصاریٰ کا ہے۔ اور جس نے اس بارے میں شک کیا اس نے سخت غلطی کھائی ہے یہ مسئلہ توریت کی نصوص صریحہ میں سے ہے جو قدیم سے اہل کتاب میں مسلم چلا آتا ہے ہاں یہ ماننا پڑتا ہے کہ جبکہ ہمو جب آیت اول گیارھویں باب پیدائش کے کل دنیا کی بولی ایک ہی تھی تو پھر یہ بے ہودہ خیال ہو گا کہ ہم ایسا سمجھیں کہ کل بنی آدم اپنی اپنی ولایتوں سے کوچ کر کے بابل میں ہی آٹھہرے تھے اور اس کی کوئی وجہ معلوم