منن الرحمٰن — Page 135
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۵ منن الرحمن پس یہ خیال ایک دھوکا ہے کہ یہ اختلاف کیوں ہزار ہا برس سے ایک ہی حد تک رہا اس سے (۸) آگے نہ بڑھا کیونکہ مؤثرات نے جس قدر اختلاف کو چاہا اسی قدر ہوا اس سے زیادہ کیونکر ہو سکتا۔ یہ ایسا ہی سوال ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ اختلاف امکنہ میں رنگوں اور عمروں اور مرضوں اور اخلاق کا اختلاف ہو گیا۔ یہ کیوں نہ ہوا کہ کسی جگہ ایک آنکھ کی جگہ دنل آنکھ ہو جاتیں سو ایسے وہم کا بجز اس کے ہم کیا جواب دے سکتے ہیں کہ یہ اختلاف یوں ہی بے قاعدہ نہیں تھا بلکہ ایک طبیعی قاعدہ کے نیچے تھا سو جس قدر قاعدہ نے تقاضا کیا اسی قدر اختلاف بھی ہوا۔ غرض جو کچھ موثرات سماوی ارضی کی وجہ سے انسان کی بناوٹ خلق یا خیالات کے طبیعی رفتار میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے وہ تبدیلی بالضرورت سلسلہ کلمات میں تبدیلی ڈالتی ہے لہذا وہ طبعاً اختلاف پیدا کرنے کے لئے مجبور ہوتی ہیں اور اگر کوئی دوسری زبان کا لفظ ان کی زبان میں پہنچے تو وہ عد اس میں بہت کچھ تبدیلی کر دیتے ہیں پس یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ اپنی خلقت کے لحاظ سے جو موثرات ارضی سماوی سے متاثر ہے فطرتا تبدیل کے محتاج ہیں ماسوا اس کے عیسائیوں اور یہودیوں کو تو ضرور یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ اتم الالسنہ عربی ہے کیونکہ توریت کی نص صریح سے یہ بات ثابت ہے کہ ابتدا میں بولی ایک ہی تھی ۔ پھر خدا تعالیٰ نے بمقام بابل ان میں اختلاف ڈال دیا۔ دیکھو توریت پیدائش باب اور یہ بات ہر یک فریق کے نزدیک مسلم ہے کہ بابل اسی سرزمین پر شہر آباد تھا کہ جہاں اب کر بلا ہے پس اس سے تو توریت کے بیان کا ماحصل یہی نکلا کہ تمام زبانوں کی ماں عربی ہے۔ باتفاق انگریز محققوں اور اسلامی محققوں کے یہ بات ثابت ہے کہ بابل جس کی آبادی کا طول دوسو میل تک تھا اور وہ اپنی آبادی میں شہر لنڈن جیسے پانچ شہروں کے برابر تھا اور نہایت عجیب اور پر تکلف باغ بھی اس میں تھے اور دریائے فرات اس کے اندر بہتا تھا وہ عراق عرب کے اندر تھا اور جب وہ ویران ہوا تو اس کی اینٹوں سے بصرہ اور کوفہ اور حلہ اور بغداد اور مداین آباد ہوئے اور یہ تمام شہر اس کی حدود کے