منن الرحمٰن — Page 132
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۲ منن الرحمن 2) عربی ہی اُم الالسنہ ہے چنانچہ اس کی وجوہ بجائے خود مفصل لکھی گئی ہیں اور ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ عربی کے کمالات خاصہ میں سے یہ ہے کہ وہ فطری نظام اپنے ساتھ رکھتی ہے اور الہی صنعت کی خوبصورتی اسی رنگ سے دکھلاتی ہے جس رنگ سے خدا تعالیٰ کے اور کام دنیا میں پائے جاتے ہیں اور یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ باقی تمام زبانیں زبان عربی کا ایک ممسوخ شدہ خاکہ ہے جس قدر یہ مبارک زبان ان زبانوں میں اپنی ہیئت میں قائم رہی ہے وہ حصہ تو لعل کی طرح چمکتا ہے اور اپنے حسن دلربا کے ساتھ دلوں پر اثر کرتا ہے اور جس قد ر کوئی زبان بگڑ گئی ہے اسی قدر اس کی نزاکت اور دلکش صورت میں فرق آ گیا ہے یہ بات تو ظاہر ہے کہ ہر یک چیز جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہے جب تک وہ اپنی اصلی صورت میں ہے تب تک اس میں خارق عادت شمائل ضرور ہوتے ہیں اور اس کی نظیر بنانے پر انسان قادر نہیں ہوتا اور جوں ہی وہ چیز اپنی اصلی حالت سے گر جاتی ہے تو معاً اس کی شکل اور حسن میں فرق ظاہر ہو جاتا ہے دیکھو جب ایک درخت اپنی اصلی حالت پر ہوتا ہے تو کیسا خوبصورت اور پیارا دکھائی دیتا ہے اور کیسے اپنی خوش نما سبزی سے اپنے آرام بخش سایہ سے اپنے پھولوں سے اپنے پھلوں سے بآواز بلند پکارتا ہے کہ انسان میری نظیر بنانے پر قادر نہیں اور جب کہ وہ اپنے مقام سے گر جاتا یا خشک ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کے تمام حالات میں فرق آ جاتا ہے ۔ نہ وہ رنگت اور آب و تاب باقی رہتی ہے اور نہ وہ خوشنما سبزی دکھائی دیتی ہے اور نہ آئندہ نشو ونما اور پھل لانے کی توقع کر سکتے ہیں یا مثلاً انسان جب زندہ اور جوان ہوتا ہے تو کیسا چہرہ چمکیلا اور تمام قومی عمدگی سے کام دیتے ہیں اور کیسا و و لباس فاخرہ سے ملبوس ہوتا ہے اور پھر جبکہ جان نکل جاتی ہے تو نہ وہ ملاحت آنکھوں میں رہتی ہے اور نہ وہ خوشنما چہرہ اور سنناد یکھنا سمجھنا پہچاننا بولنا پھرنا چلنا دکھائی دیتا ہے بلکہ معا سب باتیں رخصت ہو جاتی ہیں۔ یہی فرق عربی اور غیر زبانوں میں پایا جاتا ہے۔ زبان عربی اس لطیف طبع اور زیرک انسان کی طرح کام دیتی ہے جو مختلف ذرائع سے اپنے مدعا کو سمجھا سکتا ہے مثلاً ایک نہایت ہوشیار اور زیرک انسان کبھی ابر ویاناک یا ہاتھ سے وہ کام