منن الرحمٰن — Page 129
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۲۹ منن الرحمن کے پاک چشمہ سے پیدا ہوتی ہے جس کا آب زلال ستاروں کی طرح چمکتا اور ہر ایک معرفت کے پیاسے کو یقین کے پانی سے سیراب کرتا اور شکوک وشبہات کی میلوں سے صاف کر دیتا ہے یہ دلیل کسی پہلی کتاب نے اپنی سچائی کی تائید میں پیش نہیں کی اور اگر وید یاکسی اور کتاب نے پیش کی ہے تو واجب ہے کہ اس کے پیر و مقابلہ کے وقت پہلے اس وید کے مقام کو پیش کریں۔ اور خلاصہ مطلب اُس دلیل کا یہ ہے کہ زبانوں پر نظر ڈالنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں کا باہم اشتراک ہے۔ پھر ایک دوسری عمیق اور گہری نظر سے یہ بات بپایہ ثبوت پہنچتی ہے جو ان تمام مشترک زبانوں کی ماں زبان عربی ہے جس سے یہ تمام زبانیں نکلی ہیں۔ اور پھر ایک کامل اور نہایت محیط تحقیقات سے یعنی جبکہ عربی کی فوق العادت کمالات پر اطلاع ہو یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ یہ زبان نہ صرف اُم الالسنہ ہے بلکہ الہی زبان ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص ارادہ اور الہام سے پہلے انسان کو سکھائی گئی اور کسی انسان کی ایجاد نہیں اور پھر اس بات کا نتیجہ کہ تمام زبانوں میں سے الہامی زبان صرف عربی ہی ہے یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اکمل اور اتم وحی نازل ہونے کے لئے صرف عربی زبان ہی مناسبت رکھتی ہے کیونکہ یہ نہایت ضروری ہے کہ کتاب الہی جو تمام قوموں کی ہدایت کے لئے آئی ہے وہ الہامی زبان میں ہی نازل ہو اور ایسی زبان میں ہو جو اُم الالسنہ ہوتا اس کو ہر یک زبان اور اہل زبان سے ایک فطری مناسبت ہو اور تا وہ الہامی زبان ہونے کی وجہ سے وہ برکات اپنے اندر رکھتی ہو جو ان چیزوں میں ہوتی ہیں جو خدا تعالیٰ کے مبارک ہاتھ سے نکلتی ہیں لیکن چونکہ دوسری زبانیں بھی انسانوں نے عمداً نہیں بنا ئیں بلکہ وہ تمام اسی پاک زبان سے بحکم رب قدیر نکل کر بگڑ گئی ہیں اور اسی کی ذریات ہیں اس لئے یہ کچھ نا مناسب نہیں تھا کہ ان زبانوں میں بھی خاص خاص قوموں کے لئے الہامی کتابیں نازل ہوں ہاں یہ ضروری تھا کہ اقومی اور اعلیٰ کتاب عربی زبان میں ہی نازل ہو کیونکہ وہ اُم الالسنہ اور اصل الہامی زبان اور خدا تعالیٰ کے منہ سے نکلی ہے اور چونکہ یہ دلیل قرآن نے ہی بتلائی اور قرآن نے ہی دعویٰ