معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 492 of 581

معیارالمذاہب — Page 492

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۹۰ معیار المذاہب عقیدہ یہ بھی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کا خالق اور پیدا کنندہ ہے اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا واقعی اور حقیقی طور پر قیوم بھی ہے یعنی ہر ایک چیز کا اسی کے وجود کے ساتھ بقا ہے اور اس کا وجود ہر یک چیز کے لئے بمنزلہ جان ہے اور اگر اس کا عدم فرض کر لیں تو ساتھ ہی ہر یک چیز کا عدم ہوگا ۔ غرض ہر یک وجود کے بقا اور قیام کے لئے اس کی معیت لازم ہے لیکن آریوں اور عیسائیوں کا یہ اعتقاد نہیں ہے آریوں کا اس لئے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ارواح اور اجسام کا خالق نہیں جانتے اور ہر یک چیز سے ایسا تعلق اس کا نہیں مانتے جس سے ثابت ہو کہ ہر یک چیز اسی کی قدرت اور ارادہ کا نتیجہ ہے اور اس کی مشیت کے لئے بطور سایہ کے ہے بلکہ ہر یک چیز کا وجود ایسے طور سے مستقل خیال کرتے ہیں جس سے سمجھا جاتا ہے کہ ان کے زعم میں تمام چیزیں اپنے وجود میں مستقل طور پر قدیم اور انادی ہیں پس جبکہ یہ تمام موجود چیزیں ان کے خیال میں خدا تعالی کی قدرت سے نکل کر قدرت کے ساتھ قائم نہیں تو بلا شبہ یہ سب چیزیں ہندوؤں کے پر میشر سے ایسی بے تعلق ہیں کہ اگر ان کے پر میشر کا مرنا بھی فرض کر لیں تب بھی روحوں اور جسموں کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ ان کا پر میشر صرف معمار کی طرح ہے اور جس طرح اینٹ اور گارہ معمار کی ذاتی قدرت کے ساتھ قائم نہیں تا ہر ایک حال میں اس کے وجود کا تابع ہو ۔ یہی حال ہندوؤں کے پر میٹر کی چیزوں کا ہے سو جیسا کہ معمار کے مر جانے سے ضروری نہیں ہوتا کہ جس قدر اس نے اپنی عمر میں عمارتیں بنائی ہوں وہ ساتھ ہی گر جائیں ایسا ہی یہ بھی ضرور نہیں کہ ہندوؤں کے پر میشر کے مرجانے سے کچھ بھی صدمہ دوسری چیزوں کو پہنچے کیونکہ وہ ان کا قیوم جو چیز قدرت کے سہارے سے پیدا نہیں ہوئی وہ اپنی بقا میں بھی قدرت کے سہارے کی محتاج نہیں۔