معیارالمذاہب — Page 491
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸۹ معیار المذاہب صفات کے بارے میں قرآن کریم یہ کچی اور پاک اور کامل معرفت سکھاتا ہے کہ اس کی قدرت اور رحمت اور عظمت اور تقدس بے انتہا ہے اور یہ کہنا قرآنی تعلیم کے رو سے سخت مکروہ گناہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرتیں اور عظمتیں اور رحمتیں ایک حد پر جا کر ٹھہر جاتی ہیں یا کسی موقعہ پر پہنچ کر اس کا ضعف اسے مانع آ جاتا ہے بلکہ اس کی تمام قدرتیں اس مستحکم قاعدہ پر چل رہی ہیں کہ باستثنا ان امور کے جو اس کے تقدس اور کمال اور صفات کا ملہ کے مخالف ہیں یا اس کے مواعید غیر متبدلہ کے منافی ہیں باقی جو چاہتا ہے کر سکتا ہے مثلاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنی قدرت کا ملہ سے اپنے تئیں ہلاک کر سکتا ہے کیونکہ یہ بات اس کی صفت قدیم حتی و قیوم ہونے کے مخالف ہے ۔ وجہ یہ کہ وہ پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں ۔ ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھا تا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلا تا پیدا ہو جاتا ہے ۔ اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا ہے اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے کیونکہ یہ تمام امور نقصان اور منقصت میں داخل ہیں۔ اور اس کے جلال قدیم اور کمال نام کے برخلاف ہیں ۔ پھر یہ بھی جاننا چاہیئے کہ چونکہ اسلامی عقیدہ میں در حقیقت خدا تعالی تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہی ہے ۔ اور کیا ارواح اور کیا اجسام سب اسی کے پیدا کردہ ہیں اور اسی کی قدرت سے ظہور پذیر ہوئے ہیں لہذا قرآنی (۲۳)