معیارالمذاہب — Page 486
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸۴ معیار المذاہب پیچھے پیچھے چلا گیا کیونکر جرات کر سکتا ہے کہ اپنے تئیں نیک کہے یہ بات یقینی ہے کہ (۱۸) یسوع نے اپنے خیال سے اور بعض اور باتوں کی وجہ سے بھی اپنے تئیں نیک کہلانے سے کنارہ کشی ظاہر کی مگر افسوس کہ اب عیسائیوں نے نہ صرف نیک قرار دے دیا بلکہ خدا بنا رکھا ہے۔ غرض کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا اور تکبر اور خود بینی جو تمام بدیوں کی جڑ ہے وہ تو یسوع صاحب کے ہی حصہ میں آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے آپ خدا بن کر سب نبیوں کو ر ہرن اور بٹمار اور نا پاک حالت کے 19 آدمی قرار دیا ہے حالانکہ یہ اقرار بھی اس کے کلام سے نکلتا ہے کہ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو برباد کر گیا ہے کوئی بھلا آدمی بقیہ نوٹ جو پہلے ہی ہماری اس رائے سے اتفاق رکھتے ہیں انکار نہیں کریں گے اور جو نادان پادری انکار کریں تو ان کو اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ یسوع کا شیطان کے ہمراہ جانا در حقیقت بیداری کا ایک واقعہ ہے اور صرع وغیرہ کے حوق کا نتیجہ نہیں مگر ثبوت میں معتبر گواہ پیش کرنے چاہئیں جو رویت کی گواہی دیتے ہوں اور معلوم ہوتا ہے کہ کبوتر کا اتر نا اور یہ کہنا کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے در حقیقت یہ بھی ایک مرگی کا دورہ تھا جس کے ساتھ ایسے تخیلات پیدا ہوئے بات یہ ہے کہ کبوتر کا رنگ سفید ہوتا ہے اور بلغم کا رنگ بھی سفید ہوتا ہے اور مرگی کا مادہ بلغم ہیں ہوتا ہے سو بالغم کبوتر کی شکل پر نظر آگئی اور یہ جو کہا کہ تو میرا بیٹا ہے۔ اس میں بھید یہ ہے کہ در حقیقت مصروع مرگی کا بیٹا ہی ہوتا ہے۔ اس لئے مرگی کوفن طبابت میں ام الصبیان کہتے ہیں یعنی بچوں کی ماں۔ اور ایک مرتبہ یسوع کے چاروں حقیقی بھائیوں نے اس وقت کی گورنمنٹ میں درخواست بھی دی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہو گیا ہے اس کا کوئی بندوبست کیا جاوے یعنی عدالت کے جیل خانہ میں داخل کیا جاوے تا کہ وہاں کے دستور کے موافق اس کا علاج ہو تو یہ درخواست بھی صریح اس بات پر دلیل ہے کہ یسوع در حقیقت بوجہ بیماری مرگی کے دیوانہ ہو گیا تھا۔ منہ سوال یہ ہے کہ شیطان کو کس کس نے یسوع کے ساتھ دیکھا۔