معیارالمذاہب — Page 485
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸۳ معیار المذاہب اس نے روکا کہ مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ حقیقت میں ایسا شخص جو شیطان کے بقیہ نوٹ: بات کی ذاتی تحقیقات ہے کہ مرگی کی بیماری کے مبتلا اکثر شیاطین کو اسی طرح دیکھا کرتے ہیں وہ بعینہ ایسا ہی بیان کیا کرتے ہیں کہ ہمیں شیطان فلاں فلاں جگہ لے گیا اور اور یہ یہ عجائبات دکھلائے اور مجھے یاد ہے کہ شاید چونتیس برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ شیطان سیاہ رنگ اور بدصورت کھڑا ہے۔ اول اس نے میری طرف توجہ کی اور میں نے اس کو منہ پر طمانچہ مار کر کہا کہ دور ہوائے شیطان تیرا مجھے میں حصہ نہیں اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف گیا اور اس کو اپنے ساتھ کر لیا اور جس کو ساتھ کرلیا اس کو میں جانتا تھا اتنے میں آنکھ کھل گئی اسی دن یا اس کے بعد اس شخص کو مرگی پڑی جس کو میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ شیطان نے اس کو ساتھ کر لیا تھا اور صرع کی بیماری میں گرفتار ہو گیا اس سے مجھے یقین ہوا کہ شیطان کی ہمراہی کی تعبیر مرگی ہے پس یہ نہایت لطیف نکتہ اور بہت صاف اور عاقلانہ رائے ہے کہ یسوع دراصل مرگی کی بیماری میں مبتلا تھا اور اسی وجہ سے ایسی خواہیں بھی دیکھا کرتا تھا اور یہودیوں کا یہ الزام کہ تو بعل زبول کی مدد سے ایسے کام کرتا ہے اس رائے کا مؤید اور بہت تسکین بخش ہے کیونکہ بعد زبول بھی شیطان کا نام ہے اور یہودیوں کی بات اس وجہ سے بھی درست اور قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو شیطان کا سخت آسیب ہو جاتا ہے اور شیطان ان سے محبت کرنے لگتا ہے تو گو ان کی اپنی مرگی وغیرہ اچھی نہیں ہوتی مگر دوسروں کو اچھا کر سکتے ہیں کیونکہ شیطان ان سے محبت کرتا ہے اور ان سے جدا ہونا نہیں چاہتا مگر نہایت محبت کی وجہ سے ان کی باتیں مان لیتا ہے اور دوسروں کو ان کی خاطر سے شیطانی مرضوں سے نجات دیتا ہے اور ایسے عامل ہمیشہ شراب اور پلید چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں اور اول درجہ کے شرابی اور کھاؤ پیو ہوتے ہیں۔ چنانچہ تھوڑا عرصہ گذرا ہے کہ ایک شخص اسی طرح مرض بے ہوشی میں گرفتار تھا اور کہتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں کے جنات کو نکال دیا کرتا تھا۔ غرض یسوع کا یہ واقعہ شیطان کے ہمراہ کا مرض صرع پر صاف دلیل ہے اور ہمارے پاس کئی وجوہ ہیں جن کے مفصل لکھنے کی ابھی ضرورت نہیں اور یقین ہے کہ محقق عیسائی