معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 581

معیارالمذاہب — Page 484

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۸۲ معیار المذاہب حرکت تھی۔ جس کی وجہ سے وہ ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو بقیہ نوٹ بھوت کو بھگا دو اور دماغ اوہام سے خالی کرو تب انجیل مقدس کو پڑھو تو تم کو تعجب ہوگا کہ تم نے ایک لحظہ کے لئے بھی کیونکر اس جہالت اور ظلم کے مصنف کو عقلمند اور نیک اور پاک خیال کیا تھا ایسا ہی اور بہت سے فلاسفر سائنس کے جاننے والے جو انجیل کو نہایت ہی کراہت سے دیکھتے ہیں وہ انہیں ناپاک تعلیموں کی وجہ سے متنفر ہو گئے جن کو ماننا ایک عظمند کے لئے در حقیقت نہایت درجہ جائے عار ہے۔ مثلاً یہ ایک جھوٹا قصہ کہ ایک باپ ہے جو سخت مغلوب الغضب اور سب کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور ایک بیٹا ہے جو نہایت رحیم ہے جس نے باپ کے مجنونانہ مخضب کو اس طرح لوگوں سے ٹال دیا ہے کہ آپ سولی پر چڑھ گیا اب بے چارے محقق یورپین ایسی بے ہودہ ہاتوں کو کیونکر مان لیں ایسا ہی عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی کے خیال کہ خدا کو تین جسم پر منقسم کر دیا۔ ایک وہ جسم جو آدمی کی شکل میں ہمیشہ رہے گا جس کا نام ابن اللہ ہے۔ دوسرے وہ جسم جو کبوتر کی طرح ہمیشہ رہے گا جس کا نام روح القدس ہے۔ تیسرے وہ جسم جس کے داہنے ہاتھ بیٹا جا بیٹھا ہے۔ اب کوئی عقلمندان اجسام ثلاثہ کو کیونکر قبول کرے لیکن شیطان کی ہمراہی کا الزام یورپین فلاسفروں کے نزدیک کچھ کم جنسی کا باعث نہیں ۔ بہت کوششوں کے بعد یہ تاویلیں پیش ہوتی ہیں کہ یہ حالات یسوع کے دماغی قومی کے اپنے ہی تخیلات تھے اور اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ تندرستی اور صحت کی حالت میں ایسے مکروہ تخیلات پیدا نہیں ہو سکتے ۔ بہتوں کو اس نوٹ: عیسائیوں میں جس قدر کوئی فلسفہ کے مینار پر پہنچتا ہے اسی قدر انجیل اور عیسائی مذہب سے بیزار ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان دنوں میں ایک میم صاحبہ نے بھی عیسائی عقیدہ کے رو میں ایک رسالہ شائع کیا ہے مگر اسلامی فلاسفروں کا اس کے برعکس حال ہے۔ بو علی سینا جو رئیس فلاسفہ اور بد مذہب اور محمد کر کے مشہور ہے وہ اپنی کتاب اشارات کے اخیر میں لکھتا ہے کہ اگر چہ حشر جسمانی پر دلائل فلسفیہ قائم نہیں بلکہ اس کے برعکس پر قائم ہوتے ہیں مگر چونکہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس لئے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ منہ