معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 474 of 581

معیارالمذاہب — Page 474

روحانی خزائن جلد ۹ معیار المذاہب چھپانے کے لئے کوئی ایسا حیلہ کرتے ۔ جس سے سادہ لوحوں کی نظر میں اس طعن اور ٹھٹھے اور جنسی سے بچ جاتے ۔ سو اس بات کو عقل قبول کرتی ہے کہ انہوں نے فقط ندامت کا کلنک اپنے منہ پر سے اتارنے کی غرض سے ضرور یہ حیلہ بازی کی ہوگی کہ رات کے وقت جیسا کہ ان پر الزام لگا تھا یسوع کی نعش کو اس کی قبر میں سے نکال کر کسی دوسری قبر میں رکھ دیا ہوگا اور پھر حسب مثل مشہور کہ خواجہ کا گواہ ڈڈو کہہ دیا ہوگا کہ لو جیسا کہ تم درخواست کرتے تھے یسوع زندہ ہو گیا مگر وہ آسمان پر چلا گیا ہے لیکن یہ مشکلیں بابا نانک صاحب کے فوت ہونے پر سکھ صاحبوں کو پیش نہیں آئیں اور نہ کسی دشمن نے ان پر یہ الزام لگایا اور نہ ایسے فریبوں کے لئے ان کو کوئی ضرورت پیش آئی اور نہ جیسا کہ یہودیوں نے شور مچایا تھا کہ نعش چرائی گئی ہے کسی نے شور مچایا سو اگر عیسائی صاحبان بجائے یسوع کے بابا نا تک صاحب کی نسبت یہ عقیدہ رکھتے تو کسی قدر معقول بھی تھا مگر یسوع کی نسبت تو ایسا خیال صریح بناوٹ اور جعلسازی کی بد بو سے بھرا ہوا ہے ۔ اخیر عذر یسوع کے دکھ اٹھانے اور مصلوب ہونے کا یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خدا ہو کر پھر اس لئے سولی پر کھینچا گیا کہ تا اس کی موت گناہگاروں کے لئے کفارہ ٹھہرے لیکن یہ بات بھی عیسائیوں کی ہی ایجاد ہے کہ خدا بھی مرا کرتا ہے گومرنے کے بعد پھر اس کو زندہ کر کے عرش پر پہنچا دیا اور اس باطل و ہم میں آج تک گرفتار ہیں کہ پھر وہ عدالت کرنے کے لئے دنیا میں آئے گا اور جو جسم مرنے کے بعد اس کو دوبارہ ملا وہی جسم خدائی کی حیثیت میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا مگر عیسائیوں کا یہ مجسم خدا جس