معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 581

معیارالمذاہب — Page 475

روحانی خزائن جلد ؟ ۴۷۳ معیار المذاہب پر بقول ان کے ایک مرتبہ موت بھی آچکی ہے اور خون گوشت ہڈی اور اوپر نیچے کے سب اعضا رکھتا ہے۔ یہ ہندوؤں کے ان اوتاروں سے مشابہ ہے جن کو آج کل آریہ لوگ بڑے جوش سے چھوڑتے جاتے ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ عیسائیوں کے خدا نے تو صرف ایک مرتبہ مریم بنت یعقوب کے پیٹ سے جنم لیا ۔ مگر ہندوؤں کے خدا بشن نے نو مرتبہ دنیا کے گناہ دور کرنے کے لئے تولد کا داغ اپنے لئے قبول کر لیا ۔ خصوصاً آٹھویں مرتبہ کا جنم لینے کا قصہ نہایت دلچسپ بیان کیا جاتا ہے ۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ جب زمین دیستوں کی طاقت سے مغلوب ہو گئی تو بشن نے آدھی رات کو کنواری لڑکی کے پیٹ سے پیدا ہو کر اوتار لیا اور جو پاپ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے ان سے لوگوں کو چھڑایا۔ یہ قصہ اگر چہ عیسائیوں کے مذاق کے موافق ہے مگر اس بات میں ہندوؤں نے بہت عظمندی کی کہ عیسائیوں کی طرح اپنے اوتاروں کو سولی نہیں دیا اور نہ ان کے لعنتی ہونے کے قائل ہوئے ۔ قرآن شریف کے بعض اشارات سے نہایت صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے موجد پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں ۔ اور پھر یہی خیالات یونانیوں نے ہندوؤں سے لئے ۔ آخر اس مکر وہ اعتقاد میں ان دونوں قوموں کے فضلہ خوار عیسائی بنے۔ اور ہندوؤں کو ایک اور بات دور کی سوجھی جو عیسائیوں کو نہیں سوجھی اور وہ یہ کہ ہندو لوگ خدائے ازلی ابدی کے قدیم قانون میں یہ بات داخل رکھتے ہیں کہ جب کبھی دنیا گناہ سے بھر گئی تو آخر ان کے پرمیشر کو یہی تد بیر خیال میں آئی کہ خود دنیا میں جنم لے کر لوگوں کو نجات دیوے ۔ اور ایسا واقعہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہوتا رہا۔ لیکن گو عیسائیوں کا یہ تو