معیارالمذاہب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 581

معیارالمذاہب — Page 471

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۶۹ معیار المذاہب جب ہم سوچتے ہیں کہ کیونکر وہ گرفتار ہونے کے وقت ساری رات دعا کر کے پھر بھی اپنے مطلب سے نا مراد رہا اور ذلت کے ساتھ پکڑا گیا ۔ اور بقول عیسائیوں کے سولی پر کھینچا گیا اور ایلی ایلی کرتا مر گیا تو ہمیں ایک دفعہ بدن پر لرزہ پڑتا ہے کہ کیا ایسے انسان کو جس کی دعا بھی جناب الہی میں قبول نہ ہو سکی اور نہایت ناکامی اور نامرادی سے ماریں کھاتا کھاتا مرگیا قادر خدا کہہ سکتے ہیں ۔ ذرا اس وقت کے نظارہ کو آنکھوں کے سامنے لاؤ جب کہ یسوع مسیح حوالات میں ہو کر پلا طوس کی عدالت سے ہیر و دوس کی طرف بھیجا گیا کیا یہ خدائی کی شان ہے کہ حوالات میں ہو کر ہتکڑی ہاتھ میں زنجیر پیروں میں چند سپاہیوں کی حراست میں چالان ہو کر جھڑکیاں کھاتا ہوا گلیل کی طرف روانہ ہوا اور اس حالت پر ملالت میں ایک حوالات سے دوسری حوالات میں پہنچا ۔ ۔ پلا طوس نے کرامت دیکھنے پر چھوڑ نا چاہا اس وقت کوئی کرامت دکھلا نہ سکا ۔ ناچار پھر حراست میں واپس کر کے یہودیوں کے حوالہ کیا گیا اور انہوں نے ایک دم میں اس کی جان کا قصہ تمام کر دیا۔ اب ناظرین خود سوچ لیں کہ کیا اصلی اور حقیقی خدا کی یہی علامتیں ہوا کرتی ہیں ۔ کیا کوئی پاک کانشنس اس بات کو قبول کر سکتا ہے کہ وہ جو زمین و آسمان کا خالق اور بے انتہا قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ اخیر پر ایسا بد نصیب اور کمزور اور ذلیل حالت میں ہو جائے کہ شریر انسان اس کو اپنے ہاتھوں میں مل ڈالیں ۔ اگر کوئی ایسے خدا کو پوجے اور اس پر بھروسہ کرے تو اسے اختیار ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آریوں کے پرمیشر کے مقابل پر بھی عیسائیوں کے خدا کو کھڑا کر کے اس کی