معیارالمذاہب — Page 470
روحانی خزائن جلد ۹ ۴۶۸ معیار المذاہب وہ کسی پہلی جون کا پھل ہے مگر افسوس کہ باوجود یکہ آریوں کو دید کے اصولوں پر بہت ہی ناز ہے مگر پھر بھی یہ وید کی باطل تعلیم ان کی انسانی کانشنس کو مغلوب نہیں کر سکی اور مجھے ان ملاقاتوں کی وجہ سے جو اکثر اس فرقہ کے بعض لوگوں سے ہوتی ہیں یہ بات بار ہا تجربہ میں آچکی ہے کہ جس طرح نیوگ کے ذکر کے وقت ایک ندامت آریوں کو دامن گیر ہو جاتی ہے اسی طرح وہ نہایت ہی ندامت زدہ ہوتے ہیں جبکہ ان سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پر میشر کی قدرتی اور اخلاقی طاقتیں کیوں ایسی محدود ہو گئیں جن کی شامت سے اس کی خدائی بھی عند العقل ثابت نہیں ہو سکتی اور جس کی وجہ سے بد نصیب آریہ دائمی نجات پانے سے محروم رہے ۔ غرض ہندوؤں کے پرمیشر کی حقیقت اور ماہیت یہی ہے کہ وہ اخلاقی اور الوہیت کی طاقتوں میں نہایت کمزور اور قابل رحم ہے اور شاید یہی سبب ہے کہ ویدوں میں پر میشر کی پرستش چھوڑ کر اگنی اور وایو اور چاند اور سورج اور پانی کی پرستش پر زور ڈالا گیا ہے اور ہر یک عطا اور بخشش کا سوال ان سے کیا گیا ہے کیونکہ جب کہ پر میشر آریوں کو کسی منزل تک نہیں پہنچا سکتا بلکہ خود پوری قدرتوں سے محروم رہ کر نا مرادی کی حالت میں زندگی بسر کرتا ہے تو پھر دوسرے کا اس پر بھروسہ کرنا صریح غلطی ہے۔ ہندوؤں کے پر میشر کی کامل تصویر آنکھوں کے سامنے لانے کے لئے اسی قدر کافی ہے جو ہم لکھ چکے۔ اب دوسرا مذ ہب یعنی عیسائی باقی ہے جس کے حامی نہایت زور وشور سے اپنے خدا کو جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے ہیں اور عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے جو ۳۲ برس کی عمر پا کر اس دارالفنا سے گذر گیا