مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 65

روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں وہ جو اس روشنی سے حصہ لے۔ اور کیا ہی سعادت مند وہ شخص ہے جو اس نور میں سے کچھ ﴿۱۳﴾ پاوے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ پھل اپنے وقت پر آتے ہیں ایسا ہی نور بھی اپنے وقت پر ہی اترتا ہے۔ اور قبل اس کے جو وہ خود اترے کوئی اس کو اتار نہیں سکتا۔ اور جبکہ وہ اترے تو کوئی اس کو بند نہیں کر سکتا۔ مگر ضرور ہے کہ جھگڑے ہوں اور اختلاف ہومگر آخر سچائی کی فتح ہے۔ کیونکہ یہ امر انسان سے نہیں ہے اور نہ کسی آدم زاد کے ہاتھوں سے بلکہ اس خدا کی طرف سے ہے جو موسموں کو بدلا تا اور وقتوں کو پھیرتا اور دن سے رات اور رات سے دن نکالتا ہے۔ وہ تاریکی بھی پیدا کرتا ہے مگر چاہتا روشنی کو ہے۔ وہ شرک کو بھی پھیلنے دیتا ہے مگر پیار اس کا توحید سے ہی ہے اور نہیں چاہتا کہ اس کا جلال دوسرے کو دیا جائے ۔ جب سے کہ انسان پیدا ہوا ہے اس وقت تک کہ نا بود ہو جائے خدا کا قانون قدرت یہی ہے کہ وہ توحید کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔ جتنے نبی اس نے بھیجے سب اسی لئے آئے تھے کہ تا انسانوں اور دوسری مخلوقوں کی پرستش دور کر کے خدا کی پرستش دنیا میں قائم کریں اور ان کی خدمت یہی تھی کہ لَا اِلهَ إِلَّا الله کا مضمون زمین پر چمکے جیسا کہ وہ آسمان پر چمکتا ہے۔ سوان سب میں سے بڑا وہ ہے جس نے اس مضمون کو بہت چمکایا۔ جس نے پہلے باطل الہوں کی کمزوری ثابت کی اور علم اور طاقت کے رو سے ان کا بیج ہونا ثابت کیا۔ اور جب سب کچھ ثابت کر چکا تو پھر اس فتح نمایاں کی ہمیشہ کے لئے یادگار یہ چھوڑی کہ لا الہ الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ ۔ اس نے صرف بے ثبوت دعوے کے طور پر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ نہیں کہا بلکہ اس نے پہلے ثبوت دے کر اور باطل کا بطلان دکھلا کر پھر لوگوں کو اس طرف توجہ دی کہ دیکھو اس خدا کے سوا اور کوئی خدا نہیں جس نے تمہاری تمام قو تیں توڑ دیں اور تمام شیخیاں نابود کر دیں۔ سو اس ثابت شدہ بات کو یاد دلانے کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ مبارک کلمہ سکھلایا کہ لا إله إلا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله ۔ -