مسیح ہندوستان میں — Page 64
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۴ مسیح ہندوستان میں (۱۲) وقت اپنے مذہبی عقیدوں کی بھی پرواہ نہ رکھنا صاف اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مرہم ایسا واقعہ مشہور ہ تھا کہ کوئی فرقہ اور کوئی قوم اس سے منکر نہ ہو سکی۔ ہاں جب تک وہ وقت نہ آیا جو مسیح موعود کے ظہور کا وقت تھا اس وقت تک ان تمام قوموں کے ذہن کو اس طرف التفات نہیں ہوئی کہ یہ نسخہ جو صدہا کتابوں میں درج اور مختلف قوموں کے کروڑ ہا انسانوں میں شہرت یاب ہو چکا ہے اس سے کوئی تاریخی فائدہ حاصل کریں۔ پس اس جگہ ہم بجز اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ خدا کا ارادہ تھا کہ وہ چمکتا ہوا حربہ اور وہ حقیقت نما بر ہان کہ جو صلیبی اعتقاد کا خاتمہ کرے اس کی نسبت ابتدا سے یہی مقدر تھا کہ مسیح موعود کے ذریعہ سے دنیا میں ظاہر ہو کیونکہ خدا کے پاک نبی نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ صلیبی مذہب نہ گھٹے گا اور نہ اس کی ترقی میں فتور آئے گا جب تک که مسیح موعود دنیا میں ظاہر نہ ہو ۔ اور وہی ہے جو کسر صلیب اس کے ہاتھ پر ہوگی ۔ اس پیشگوئی میں یہی اشارہ تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں خدا کے ارادہ سے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت کھل جائے گی ۔ تب انجام ہوگا اور اس عقیدہ کی عمر پوری ہو جائے گی ۔ لیکن نہ کسی جنگ اور لڑائی سے بلکہ محض آسمانی اسباب سے جو علمی اور استدلالی رنگ میں دنیا میں ظاہر ہوں گے ۔ یہی مفہوم اس حدیث کا ہے جو حیح بخاری اور دوسری کتابوں میں درج ہے۔ پس ضرور تھا کہ آسمان ان امور اور ان شہادتوں اور ان قطعی اور یقینی ثبوتوں کو ظاہر نہ کرتا جب تک کہ مسیح موعود دنیا میں نہ آتا۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اور اب سے جو وہ موعود ظاہر ہوا ہر ایک کی آنکھ کھلے گی اور غور کرنے والے غور کریں گے کیونکہ خدا کا مسیح آ گیا۔ اب ضرور ہے کہ دماغوں میں روشنی اور دلوں میں توجہ اور قلموں میں زور اور کمروں میں ہمت پیدا ہو۔ اور اب ہر ایک سعید کو فہم عطا کیا جائے گا اور ہر ایک رشید کو عقل دی جائے گی کیونکہ جو چیز آسمان میں چمکتی ہے وہ ضرور زمین کو بھی منور کرتی ہے۔ مبارک