مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 63

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۳ مسیح ہندوستان میں چنانچہ ایک پرانا قلمی نسخہ قانون بو علی سینا کا اُسی زمانہ کا لکھا ہوا میرے پاس بھی موجود ہے ہے۔ تو پھر یہ صریح ظلم اور سچائی کا خون کرنا ہے کہ ایسے روشن ثبوت کو یونہی پھینک دیا جائے۔ بار بار اس بات میں غور کرو اور خوب غور کرو کہ کیونکر یہ کتا بیں اب تک یہودیوں اور مجوسیوں اور عیسائیوں اور عربوں اور فارسیوں اور یونانیوں اور رومیوں اور اہل جرمن اور فرانسیسیوں اور دوسرے یورپ کے ملکوں اور ایشیا کے پورا نے کتب خانوں میں موجود ہیں اور کیا یہ لائق ہے کہ ہم ایسے ثبوت سے جس کی روشنی سے انکار کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں یونہی منہ پھیر لیں؟ اگر یہ کتابیں صرف اہل اسلام کی تالیف اور اہل اسلام کے ہی ہاتھ میں ہوتیں تو شاید کوئی جلد باز یہ خیال کر سکتا کہ مسلمانوں نے عیسائی عقیدہ پر حملہ کرنے کے لئے جعلی طور پر یہ باتیں اپنی کتابوں میں لکھ دی ہیں مگر یہ خیال علاوہ ان وجوہ کے جو ہم بعد میں لکھتے ہیں اس وجہ سے بھی غلط تھا کہ ایسے جعل کے مسلمان کسی طور سے مرتکب نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ عیسائیوں کی طرح مسلمانوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد بلا توقف آسمان پر چلے گئے ۔ اور مسلمان تو اس بات کے قائل بھی نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر کھینچا گیا یا صلیب پر سے ان کو زخم پہنچے پھر وہ عمداً ایسی جعل سازی کیونکر کر سکتے تھے جو ان کے عقیدہ کے بھی مخالف تھی ۔ ماسوا اس کے ابھی اسلام کا دنیا میں وجود بھی نہیں تھا جبکہ رومی و یونانی وغیرہ زبانوں میں ایسی قر ابا دینیں لکھی گئیں اور کروڑ ہا لوگوں میں مشہور کی گئیں جن میں مرہم عیسی کا نسخہ موجود تھا اور ساتھ ہی یہ تشریح بھی موجود تھی کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بنائی تھی ۔ اور یہ تو میں یعنی یہودی و عیسائی واہل اسلام و مجوسی مذہبی طور پر ایک دوسرے کے دشمن تھے ۔ پس ان سب کا اس مرہم کو اپنی کتابوں میں درج کرنا بلکہ درج کرنے کے