مسیح ہندوستان میں — Page 62
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۶۲ مسیح ہندوستان میں (1) طرح محیط ہو گیا ہے ۔ اور جو یہودیوں اور عیسائیوں اور مجوسیوں اور مسلمانوں کے نامی فلاسفروں کی شہادتوں سے پیدا ہوا ہے۔ اب اے محققوں کی روحو! اس اعلیٰ ثبوت کی طرف دوڑو ۔ اور اے منصف مزاجو! اس معاملہ میں ذرہ غور کرو۔ کیا ایسا چمکتا ہوا ثبوت اس لائق ہے کہ اس پر توجہ نہ کی جائے ؟ کیا مناسب ہے کہ ہم اس آفتاب صداقت سے روشنی حاصل نہ کریں؟ یہ وہم بالکل لغو اور بیہودہ ہے کہ ممکن ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت کے زمانہ سے پہلے چوٹیں لگی ہوں یا نبوت کے زمانہ کی ہی چوٹیں ہوں مگر وہ صلیب کی نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہاتھ اور پیر زخمی ہو گئے ہوں ۔ مثلاً وہ کسی کو ٹھے پر سے گر گئے ہوں اور اس صدمہ کے لئے یہ مرہم طیار کی گئی ہو کیونکہ نبوت کے زمانہ سے پہلے حواری نہ تھے اور اس مرہم میں حواریوں کا ذکر ہے ۔ شلیخا کا لفظ جو یونانی ہے جو باراں کو کہتے ہیں ۔ ان کتابوں میں اب تک موجود ہے۔ اور نیز نبوت کے زمانہ سے پہلے حضرت مسیح کی کوئی عظمت تسلیم نہیں کی گئی تھی تا اس کی یاد گار محفوظ رکھی جاتی اور نبوت کا زمانہ صرف ساڑھے تین برس تھا۔ اور اس مدت میں کوئی واقعہ ضربہ یا سقطہ کا بجز واقعہ صلیب کے حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت تاریخوں سے ثابت نہیں۔ اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ ممکن ہے کہ ایسی چوٹیں کسی اور سبب سے حضرت عیسی علیہ السلام کو لگی ہوں تو یہ ثبوت اس کے ذمہ ہے کیونکہ ہم جس واقعہ کو پیش کرتے ہیں وہ ایک ایسا ثابت شدہ اور مانا ہوا وا قعہ ہے کہ نہ یہودیوں کو اس سے انکار ہے اور نہ عیسائیوں کو یعنی صلیب کا واقعہ ۔ لیکن یہ خیال کہ کسی اور سبب سے کوئی چوٹ حضرت مسیح کو لگی ہوگی کسی قوم کی تاریخ سے ثابت نہیں ۔ اس لئے ایسا خیال کرنا عمداً سچائی کی راہ کو چھوڑنا ہے۔ یہ ثبوت ایسا نہیں ہے کہ اس قسم کے بیہودہ عذرات سے رڈ ہو سکے۔ اب تک بعض کتابیں بھی موجود ہیں جو مصنفوں کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔