مسیح ہندوستان میں — Page 57
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷ مسیح ہندوستان میں ہے کہ بجز ماننے کے کچھ بن نہیں پڑتا وہ ایک نسخہ ہے جس کا نام مرہم عیسی ہے جو طب کی صدبا کتابوں میں لکھا ہوا پایا جاتا ہے۔ ان کتابوں میں سے بعض ایسی ہیں جو عیسائیوں کی تالیف ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ جن کے مؤلف مجوسی یا یہودی ہیں۔ اور بعض کے بنانے والے مسلمان ہیں ۔ اور اکثران میں بہت قدیم زمانہ کی ہیں۔ تحقیق سے ایسا معلوم ہوا ہے کہ اول زبانی طور پر اس نسخہ کا لاکھوں انسانوں میں شہرہ ہو گیا اور پھر لوگوں نے اس نسخہ کو قلمبند کر لیا۔ پہلے رومی زبان میں حضرت مسیح کے زمانہ میں ہی کچھ تھوڑا عرصہ واقعہ صلیب کے بعد ایک قرابادین تالیف ہوئی جس میں یہ نسخہ تھا اور جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی چوٹوں کے لئے یہ نسخہ بنایا گیا تھا۔ پھر وہ قرابادین کئی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئی یہاں تک کہ مامون رشید کے زمانہ میں عربی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا۔ اور یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ہر ایک مذہب کے فاضل طبیب نے کیا عیسائی اور کیا یہودی اور کیا مجوسی اور کیا مسلمان سب نے اس نسخہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے اور سب نے اس نسخہ کے بارے میں یہی بیان کیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے ان کے حواریوں نے طیار کیا تھا اور جن کتابوں میں ادویہ مفردہ کے خواص لکھے ہیں ان کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ ان چوٹوں کے لئے نہایت مفید ہے جو کسی ضربہ یا سقطہ سے لگ جاتی ہیں اور چوٹوں سے جو خون رواں ہوتا ہے وہ فی الفور اس سے خشک ہو جاتا ہے اور چونکہ اس میں مر بھی داخل ہے اس لئے زخم کیٹر ا پڑنے سے بھی محفوظ رہتا ہے ۔ اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے۔ اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے ۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت عیسی علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا کسی طبیب کے مشورہ سے طیار کی گئی تھی۔ اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں۔ خاص کر مر جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔ بہر حال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام