مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 55

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۵ مسیح ہندوستان میں یہی چاہا کہ جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کرنا ایک مشہور امر تھا اور امور بدیہیہ مشہودہ محسوسہ میں سے تھا اسی طرح تطہیر اور بریت بھی امور مشہودہ محسوسہ میں سے ہوئی چاہیے۔ سواب اسی کے موافق ظہور میں آیا یعنی تطہیر بھی صرف نظری نہیں بلکہ محسوس طور پر ہو گئی اور لاکھوں انسانوں نے اس جسم کی آنکھ سے دیکھ لیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔ اور جیسا کہ گلگتہ یعنی سری کے مکان پر حضرت مسیح کو صلیب پر کھینچا گیا تھا ایسا ہی سری کے مکان پر یعنی سرینگر میں ان کی قبر کا ہونا ثابت ہوا۔ یہ عجیب بات ہے کہ دونوں موقعوں میں سری کا لفظ موجود ہے۔ یعنی جہاں حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر کھینچے گئے اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے اور جہاں انیسویں صدی کے اخیر میں حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ثابت ہوئی اس مقام کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے ۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ گلگت کہ جو کشمیر کے علاقہ میں ہے یہ بھی سری کی طرف ایک اشارہ ہے۔ غالبا یہ شہر حضرت مسیح کے وقت میں بنایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یادگار مقامی کے طور پر اس کا نام گلگت یعنی سری رکھا گیا۔ جیسا کہ لاسہ جس کے معنی ہیں معبود کا شہر ۔ یہ عبرانی لفظ ہے اور یہ بھی حضرت مسیح کے وقت میں آباد ہوا ہے۔ اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو پچیس برس کی ہوئی ہے۔ اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔ (۱) ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنی ایک سو چھپیں برس زندہ رہے۔ (۲) دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔ اس لئے نہبی سیاح کہلائے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس برس کی عمر میں آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سو پچیس برس کی روایت صحیح نہیں