مسیح ہندوستان میں — Page 45
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۵ مسیح ہندوستان میں اب یہ اس قسم کا معجزہ ہے کہ نتائج مذکورہ کا اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ سکھ کہہ سکتے ہیں کہ کیا ﴿۲۳﴾ ہاتھی کی کوئی بولنے والی زبان ہے کہ تا باوا نانک کی تصدیق یا تکذیب کرتا۔ غرض عوام تو اپنی چھوٹی سی عقل کی وجہ سے ایسے معجزات پر بہت خوش ہوتے ہیں مگر عقلمند غیر قوموں کے اعتراضوں کا نشانہ بن کر کوفتہ خاطر ہوتے ہیں اور جس مجلس میں ایسی بیہودہ کہانیاں کی جائیں وہ بہت شرمندہ ہوتے ہیں ۔ اب چونکہ ہم کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ایسا ہی محبت اور اخلاص کا تعلق ہے جیسا کہ عیسائیوں کو تعلق ہے بلکہ ہم کو بہت بڑھ کر تعلق ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کس کی تعریف کرتے ہیں مگر ہم جانتے ہیں کہ ہم کس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کو دیکھا ہے لہذا اب ہم اس عقیدہ کی اصل حقیقت کو کھولتے ہیں کہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت تمام راستباز فوت شدہ زندہ ہو کر شہر میں آگئے تھے۔ پس واضح ہو کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو صلیب کے واقعہ کے بعد بعض پاک دل لوگوں نے خواب کی طرح دیکھا تھا کہ گویا مقدس مردے زندہ ہو کر شہر میں آگئے ہیں۔ اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور جیسا کہ خوابوں کی تعبیر خدا کی پاک کتابوں میں کی گئی ہے۔ مثلاً جیسا کہ حضرت یوسف کی خواب کی تعبیر کی گئی۔ ایسا ہی اس خواب کی بھی ایک تعبیر تھی۔ اور وہ یہ تعبیر تھی کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور خدا نے اس کو صلیب کی موت سے نجات دے دی۔ اور اگر ہم سے یہ سوال کیا جائے کہ یہ تعبیر تمہیں کہاں سے معلوم ہوئی تو اس کا یہ جواب ہے کہ فن تعبیر کے اماموں نے ایسا ہی لکھا ہے اور تمام مجرین نے اپنے تجربہ سے اس پر گواہی دی ہے۔ چنانچہ ہم قدیم زمانہ کے ایک امام فن تعبیر یعنی صاحب کتاب تعطیر الا نام کی تعبیر کو اس کی اصل عبارت کے ساتھ ذیل میں لکھتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے من رأى أنّ الموتى وثبوا من قبورهم و رجعوا الى دورهم فانه يطلق من في السجن۔ دیکھو کتاب تعطير الأنام في تعبير المنام مصنفہ قطب الزمان شیخ عبد الغنی النابلسی صفحه ۲۸۹ ترجمہ: اگر کوئی یہ خواب دیکھے یا کشفی طور پر مشاہدہ کرے کہ مردے قبروں میں سے نکل آئے اور اپنے