مسیح ہندوستان میں — Page 44
روحانی خزائن جلد ۱۵ م م مسیح ہندوستان میں (۲۲) سیر کر کے یہ لوگ آئے ہیں۔ اور میں فلاں فلاں بادشاہ سے بھی اپنے شاہانہ مرتبہ میں اول درجہ پر ہوں تو لوگ ایسے سیاحوں سے ضرور پوچھا کرتے ہیں کہ بھلا یہ تو بتلائیے کہ فلاں شخص جو ان دنوں میں ہمارے ملک میں اس ملک سے آیا ہوا ہے کیا سچ سچ یہ اس ملک کا بادشاہ ہے اور پھر وہ لوگ جیسا کہ واقعہ ہو بتلا دیا کرتے ہیں تو اس صورت میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے حضرت مسیح کے ہاتھ سے مُردوں کا زندہ ہونا فقط اس حالت میں قابل پذیرائی ہوتا جبکہ وہ گواہی جو ان سے پوچھی گئی ہوگی جس کا پوچھا جانا ایک طبعی امر ہے کوئی مفید نتیجه بخشی لیکن اس جگہ ایسا نہیں ہے۔ پس نا چار اس بات کے فرض کرنے سے کہ مُردے زندہ ہوئے تھے اس بات کو بھی ساتھ ہی فرض کرنا پڑتا ہے کہ ان مردوں نے حضرت مسیح کے حق میں کوئی مفید گوا ہی نہیں دی ہوگی جس سے ان کی سچائی تسلیم کی جاتی بلکہ ایسی گواہی دی ہوگی جس سے اور بھی فتنہ بڑھ گیا ہوگا۔ کاش اگر انسانوں کی جگہ دوسرے چار پائیوں کا زندہ کرنا بیان کیا جاتا تو اس میں بہت کچھ پردہ پوشی متصور تھی ۔ مثلاً یہ کہا جاتا کہ حضرت مسیح نے کئی ہزار بیل زندہ کئے تھے تو یہ بات بہت معقول ہوتی اور کسی کے اعتراض کے وقت جبکہ مذکورہ بالا اعتراض کیا جاتا یعنی یہ کہا جاتا کہ ان مردوں کی گواہی کا نتیجہ کیا ہوا تو ہم فی الفور کہہ سکتے کہ وہ تو بیل تھے ان کی زبان کہاں تھی جو بھلی پائیری گواہی دیتے ۔ بھلا وہ تو لاکھوں مردے تھے جو حضرت مسیح نے زندہ کئے آج مثلا چند ہندوؤں کو اگر بلا کر پوچھو کہ اگر تمہارے فوت شدہ باپ دادے دس ہیں زندہ ہو کر دنیا میں واپس آجائیں اور گواہی دیں کہ فلاں مذہب سچا ہے تو کیا پھر بھی تم کو اس مذہب کی سچائی میں شک باقی رہ جائے گا۔ تو ہر گز نفی کا جواب نہیں دیں گے۔ پس یقیناً سمجھو کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں کہ اس قد را نکشاف کے بعد پھر بھی اپنے کفر اور انکار پر اڑا ر ہے۔ افسوس ہے کہ ایسی کہانیوں کی بندش میں ہمارے ملک کے سکھ خالصہ عیسائیوں سے اچھے رہے اور انہوں نے ایسی کہانیوں کے بنانے میں خوب ہوشیاری کی۔ کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے گورو باوا نانک نے ایک دفعہ ایک ہاتھی مردہ زندہ کیا تھا۔