مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 43

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۴۳ مسیح ہندوستان میں زندہ ہو جائیں اور پھر وعظ کرنے کے لئے شہر میں آئیں اور ہر ایک کھڑا ہو کر ہزار ہا انسانوں کے ھے سامنے یہ گواہی دے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کا بیٹا بلکہ خود خدا ہے اسی کی پوجا کیا کرو اور پہلے خیالات کو چھوڑو ورنہ تمہارے لئے جہنم ہے جس کو خود ہم دیکھ کر آئے ہیں ۔ اور پھر باوجود اس اعلیٰ درجہ کی گواہی اور شہادت رویت کے جو لاکھوں راستباز مردوں کے منہ سے نکلی یہودی اپنے انکار سے باز نہ آئیں۔ ہمارا کانشنس تو اس بات کو نہیں مانتا۔ پس اگر فی الحقیقت لاکھوں راستباز فوت شده پیغمبر اور رسول وغیرہ زندہ ہو کر گواہی کے لئے شہر میں آئے تھے تو کچھ شک نہیں کہ انہوں نے کچھ الٹی ہی گواہی دی ہوگی اور ہرگز حضرت مسیح کی خدائی کو تصدیق نہیں کیا ہوگا تبھی تو یہودی لوگ مردوں کی گواہیوں کو سن کر اپنے کفر پر پکے ہو گئے اور حضرت مسیح تو ان سے خدائی منوانا چاہتے تھے مگر وہ تو اس گواہی کے بعد نبوت سے بھی منکر ہو بیٹھے۔ غرض ایسے عقیدے نہایت مضر اور بداثر ڈالنے والے ہیں کہ ایسا یقین کیا جائے کہ یہ لاکھوں مردے یا اس سے پہلے کوئی مردہ حضرت مسیح نے زندہ کیا تھا کیونکہ ان مردوں کے زندہ ہونے کے بعد کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں ہوا۔ یہ انسان کی فطرت میں ہے کہ اگر مثلاً کوئی شخص کسی دور دراز ملک میں جاتا ہے اور چند برس کے بعد اپنے شہر میں واپس آتا ہے تو طبعا اس کے دل میں یہ جوش ہوتا ہے کہ اس ملک کے عجائب غرائب لوگوں کے پاس بیان کرے اور اس ولایت کے عجیب در عجیب واقعات سے ان لوگوں کو اطلاع دے نہ یہ کہ اتنی مدت کی جدائی کے بعد جب اپنے لوگوں کو ملے تو زبان بند رکھے اور گونگوں کی طرح بیٹھا رہے بلکہ ایسے موقعہ میں دوسرے لوگوں میں بھی فطرتا میہ جوش پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے پاس دوڑے آتے ہیں اور اس ملک کے حالات اس سے پوچھتے ہیں اور اگر ایسا اتفاق ہو کہ ان لوگوں کے ملک میں کوئی غریب شکستہ حال وارد ہو جس کی ظاہری حیثیت غریبانہ ہو اور وہ دعویٰ کرتا ہو کہ میں اُس ملک کا بادشاہ ہوں جس کے پایہ تخت کا