مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 30

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۳۰ مسیح ہندوستان میں ۲۸ نے ان دونوں کو کافر قرار دیا اور ان دونوں کا نام ملحد اور دجال رکھا اور ان دونوں کی نسبت قتل کے فتوے لکھے گئے اور دونوں کو عدالتوں کی طرف کھینچا گیا جن میں سے ایک رومی عدالت تھی اور دوسری انگریزی۔ آخر دونوں بچائے گئے اور دونوں قسم کے مولوی یہودی اور مسلمان ناکام رہے۔ اور خدا نے ارادہ کیا کہ دونوں مسیحوں کو ایک بڑی جماعت بناوے اور دونوں قسم کے دشمنوں کو نامراد رکھے۔ غرض موسیٰ کی چودھویں صدی اور ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چودھویں صدی اپنے اپنے مسیحوں کے لئے سخت بھی ہیں اور انجام کار مبارک بھی ۔ اور منجملہ ان شہادتوں کے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے صلیب سے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب ۲۶ میں یعنی آیت ۳۶ سے آیت ۴۶ تک مرقوم ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام گرفتار کئے جانے کا الہام پا کر تمام رات جناب الہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دعا کرتے رہے۔ اور ضرور تھا کہ ایسی تضرع کی دعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بے قراری کے وقت کا سوال ہو ہرگز رو نہیں ہوتا۔ پھر کیوں مسیح کی ساری رات کی دعا اور دردمند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی دعا رد ہوگئی۔ حالانکہ مسیح دعوی کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے ۔ پس کیونکر باور کیا جائے کہ خدا اس کی سنتا تھا جبکہ ایسی بے قراری کی دعا سنی نہ گئی۔ اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دلی یقین تھا کہ اس کی وہ دعا ضرور قبول ہو گئی اور اس دعا پر اس کو بہت بھروسہ تھا۔ اس وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اس نے اپنی امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ ایلی ایلی لما سبقتانی “اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا یعنی مجھے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہوگا اور میں صلیب پر مروں گا۔ اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعا سنے گا۔ پس متی باب ۲۷ آیت ۴۶ - (ناشر)