مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 29

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۲۹ مسیح ہندوستان میں غافل کر دیا گیا مگر چوروں کی ہڈیاں تو ڑ کر اسی وقت ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ بات تو تب تھی کہ ان دونوں چوروں میں سے بھی کسی کی نسبت کہا جاتا کہ یہ مر چکا ہے اس کی ہڈیاں توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور یوسف نام پلاطوس کا ایک معزز دوست تھا جو اس نواح کا رئیس تھا اور مسیح کے پوشیدہ شاگردوں میں داخل تھا وہ عین وقت پر پہنچ گیا۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی پلا طوس کے اشارہ سے بلایا گیا تھا۔ مسیح کو ایک لاش قرار دے کر اس کے سپرد کر دیا گیا کیونکہ وہ ایک بڑا آدمی تھا۔ اور یہودی اس کے ساتھ کچھ پر خاش نہیں کر سکتے تھے۔ جب وہ پہنچا تو مسیح کو جوششی میں تھا ایک لاش قرار دے کر اس نے لیا اور اسی جگہ ایک وسیع مکان تھا جو اس زمانہ کی رسم پر قبر کے طور پر بنایا گیا تھا اور اس میں ایک کھڑ کی بھی تھی اور ایسے موقع پر تھا جو یہودیوں کے تعلق سے الگ تھا اسی جگہ پلا طوس کے اشارہ سے مسیح کو رکھا گیا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کہ حضرت موسیٰ کی وفات پر چودھویں صدی گذر رہی تھی اور اسرائیلی شریعت کے زندہ کرنے کے لئے مسیح چودھویں صدی کا مجدد تھا۔ اور اگر چہ یہودیوں کو اس چودھویں صدی میں مسیح موعود کا انتظار بھی تھا اور گذشتہ نبیوں کی پیشگوئیاں بھی اس وقت پر گواہی دیتی تھیں لیکن افسوس کہ یہودیوں کے نالائق مولویوں نے اس وقت اور موسم کو شناخت نہ کیا اور مسیح موعود کو جھوٹا قراردے دیا۔ نہ صرف یہی بلکہ اس کو کا فر قرار دیا اس کا نام ملحد رکھا اور آخر اس کے قتل پر فتویٰ لکھا اور اس کو عدالت میں کھینچا۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ خدا نے چودھویں صدی میں کچھ تا ثیر ہی ایسی رکھی ہے جس میں قوم کے دل سخت اور مولوی دنیا پرست اور اندھے اور حق کے دشمن ہو جاتے ہیں۔ اس جگہ اگر موسیٰ کی چودھویں صدی اور موسیٰ کے مثیل کی چودھویں صدی کا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں باہم مقابلہ کیا جائے تو اول یہ نظر آئے گا کہ ان دونوں چودھویں صدیوں میں دو ایسے شخص ہیں جنہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور وہ دعوی سچا تھا اور خدا کی طرف سے تھا۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوگا کہ قوم کے علماء