مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 18 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 18

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۸ مسیح ہندوستان میں جب کہ حقیقت میں اس کا دل خدا سے برگشتہ ہو کر سیاہ ہو جائے اور خدا کی رحمت سے بے نصیب اور خدا کی محبت سے بے بہرہ اور خدا کی معرفت سے بکلی تہی دست اور خالی اور شیطان کی طرح اندھا اور بے بہرہ ہو کر گمراہی کے زہر سے بھرا ہوا ہو اور خدا کی محبت اور معرفت کا نورا ایک ذرہ اس میں باقی نہ رہے اور تمام تعلق مہر و وفا کا ٹوٹ جائے اور اس میں اور خدا میں با ہم بغض اور نفرت اور کراہت اور عداوت پیدا ہو جائے۔ یہاں تک کہ خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے ۔ غرض ہر ایک صفت میں شیطان کا وارث ہو جائے اور اسی وجہ سے لعین شیطان کا نام ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ملعون کا مفہوم ایسا پلید اور ناپاک ہے کہ کسی طرح کسی راستباز پر جو کہ اپنے دل میں خدا کی محبت رکھتا ہے صادق نہیں آ سکتا۔ افسوس کہ عیسائیوں نے اس اعتقاد کے ایجاد کرنے کے وقت لعنت کے مفہوم پر غور نہیں کی ورنہ ممکن نہ تھا کہ وہ لوگ ایسا خراب لفظ مسیح جیسے راستباز کی نسبت استعمال کر سکتے ۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح پر کبھی ایسا زمانہ آیا تھا کہ اس کا دل در حقیقت خدا سے برگشتہ اور خدا کا منکر اور خدا سے بیزار اور خدا کا دشمن ہو گیا تھا ؟ کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ مسیح کے دل نے بھی یہ محسوس کیا تھا کہ وہ اب خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور کفر اور انکار کی تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے؟ پھر اگر مسیح کے دل پر کبھی ایسی حالت نہیں آئی بلکہ وہ ہمیشہ محبت اور معرفت کے نور سے بھرا رہا تو اسے دانشمند و! یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کیونکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسیح کے دل پر نہ ایک لعنت بلکہ ہزاروں خدا کی لعنتیں اپنی کیفیت کے ساتھ نازل ہوئی تھیں۔ معاذ اللہ ہر گز نہیں۔ تو پھر ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ نعوذ باللہ و لعنتی ہوا؟ نہایت افسوس ہے کہ انسان جب ایک بات منہ سے نکال لیتا ہے یا ایک عقیدہ پر قائم ہو جاتا ہے تو پھر گو کیسی ہی خرابی اس عقیدہ کی کھل جائے کسی طرح اس کو چھوڑ نا نہیں چاہتا۔ نجات حاصل کرنے کی تمنا اگر کسی حقیقت حقہ پر بنیاد رکھتی ہو تو قابل تعریف امر ہے لیکن یہ کیسی نجات کی خواہش ہے جس سے ایک سچائی کا خون کیا جاتا اور م دیکھو کتب لغت۔ لسان العرب ، صحاح جوہری ، قاموس ،محیط ، تاج العروس وغیرہ۔ منہ