مسیح ہندوستان میں — Page 19
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۹ مسیح ہندوستان میں ایک پاک نبی اور کامل انسان کی نسبت یہ اعتقاد کیا جاتا ہے کہ گویا اس پر یہ حالت بھی آئی تھی 12 کی کہ اس کا خدائے تعالی سے رشتہ تعلق ٹوٹ گیا تھا۔ اور بجائے یک دلی اور یک جہتی کے مغائرت اور مبائیت اور عداوت اور بیزاری پیدا ہو گئی تھی اور بجائے نور کے دل پر تاریکی چھا گئی تھی ۔ یہ بھی یادر ہے کہ ایسا خیال صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی شان نبوت اور مرتبہ رسالت کے ہی مخالف نہیں بلکہ ان کے اس دعوی کمال اور پاکیزگی اور محبت اور معرفت کے بھی مخالف ہے جو انہوں نے جابجا انجیل میں ظاہر کیا ہے۔ انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں ۔ میں بادی ہوں ۔ اور میں خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں۔ اور میں نے اُس سے پاک پیدائش پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں ۔ پھر با وجود ان غیر منفک اور پاک تعلقات کے لعنت کا نا پاک مفہوم کیونکر مسیح کے دل پر صادق آ سکتا ہے۔ ہرگز نہیں پس بلا شبہ یہ بات ثابت ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنی صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اس کی ذات صلیب کے نتیجہ سے پاک ہے۔ اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کی ناپاک کیفیت سے بیشک اس کے دل کو بچایا گیا۔ اور بلا شبہ اس سے یہ نتیجہ بھی نکلا کہ وہ آسمان پر ہرگز نہیں گیا کیونکہ آسمان پر جانا اس منصوبہ کی ایک جز تھی اور مصلوب ہونے کی ایک فرع تھی ۔ پس جبکہ ثابت ہوا کہ وہ نہ لعنتی ہوا اور نہ تین دن کے لئے دوزخ میں گیا اور نہ مرا تو پھر یہ دوسری جز آسمان پر جانے کی بھی باطل ثابت ہوئی اور اس پر اور بھی دلائل ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں ۔ چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ قول ہے جو مسیح کے منہ سے نکلا لیکن میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا دیکھو مستی با آیت ۳۲۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح قبر سے نکلنے کے بعد جلیل کی طرف گیا تھا نہ آسمان کی طرف۔ اور مسیح کا یہ کلمہ کہ اپنے جی اٹھنے کے بعد اس سے مرنے کے