مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 11

روحانی خزائن جلد ۱۵ 11 مسیح ہندوستان میں کہ کسی طرح یہ لوگ جلد نابود ہو جائیں اور یا ایسے منتشر ہوں کہ ان کی ترقی کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے اس وجہ سے بات بات میں ان کی طرف سے مزاحمت تھی اور ہر ایک قوم میں سے جو شخص مسلمان ہو جا تا تھا وہ قوم کے ہاتھ سے یا تو فی الفور مارا جاتا اور یا اس کی زندگی سخت خطرہ میں رہتی۔ تھی تو ایسے وقت میں خدا تعالیٰ نے نو مسلم لوگوں پر رحم کر کے ایسی متعصب طاقتوں پر یہ تعزیر لگادی تھی کہ وہ اسلام کے خراج دو ہو جائیں اور اس طرح اسلام کے لئے آزادی کے دروازے کھول دیں اور اس سے مطلب یہ تھا کہ تا ایمان لانے والوں کی راہ سے روکیں دور ہو جائیں اور یہ دنیا پر خدا کا رحم تھا اور اس میں کسی کا حرج نہ تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس وقت کے غیر قوم کے بادشاہ اسلام کی مذہبی آزادی کو نہیں روکتے ، اسلامی فرائض کو بند نہیں کرتے اور اپنی قوم کے مسلمان ہونے والوں کو قتل نہیں کرتے ، ان کو قید خانوں میں نہیں ڈالتے ان کو طرح طرح کے دکھ نہیں دیتے تو پھر کیوں اسلام ان کے مقابل پر تلوار اٹھا وے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔ اگر قرآن شریف اور تمام حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے اور جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہے تدبر سے پڑھا یا سنا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد قطعی یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض کہ گویا اسلام نے دین کو جبڑا پھیلانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے نہایت بے بنیاد اور قابل شرم الزام ہے اور یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے تعصب سے الگ ہو کر قرآن اور حدیث اور اسلام کی معتبر تاریخوں کو نہیں دیکھا بلکہ جھوٹ اور بہتان لگانے سے پورا پورا کام لیا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ قریب آتا جاتا ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیا سے ان بہتانوں کی حقیقت پر مطلع ہو جائیں گے۔ کیا اس مذہب کو ہم جبر کا مذہب کہہ سکتے ہیں جس کی کتاب قرآن میں صاف طور پر یہ ہدایت ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین میں داخل کرنے کے لئے جبر جائز نہیں۔ کیا ہم اس بزرگ نبی کو جبر کا الزام دے سکتے ہیں جس نے مکہ معظمہ کے تیرہ برس میں اپنے تمام دوستوں کو دن رات یہی نصیحت دی کہ شر کا مقابلہ مت کرو اور صبر کرتے رہو ۔ ہاں جب دشمنوں کی بدی حد سے گذرگئی اور دین اسلام کے مٹا دینے کے لئے تمام قوموں نے البقرة: ۲۵۷