مسیح ہندوستان میں — Page xxx
16 تحفہ غزنویہ رسالہ تحفہ غزنویہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی عبدالحق غزنوی کے ایک اشتہار کے جواب میں لکھا جس میں اس نے سخت زبانی اور ٹھٹھا اور ہنسی کی تھی۔حضرت اقدس اس اشتہار سے متعلق فرماتے ہیں:۔’’یہ اشتہار دو رنگ کے حملوں پر مشتمل ہے۔اول میاں عبدالحق نے بعض گذشتہ نشانوں اور پیشگوئیوں کو جو فی الواقع پوری ہو چکیں یا وہ جو عنقریب پوری ہونے کو ہیں پیش کر کے عام لوگوں کو یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ گویا وہ پوری نہیں ہوئیں۔‘‘ (تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۵۳۴) ’’دوسرا حملہ میاں عبدالحق کا یہ ہے کہ وہ تجویز جو میں نے خدا تعالیٰ کے الہام سے بطور اتمام حجت پیش کی تھی جس کو میں اس سے پہلے بھی بذریعہ اشتہار شائع کر چکا تھا یعنی بیماروں کی شفا کے ذریعہ سے استجابت دعا کا مقابلہ اس تجویز کو میاں عبدالحق منظور نہیں فرماتے اور یہ عذر کرتے ہیں کہ بھلا سارے مشائخ اور علماءِ ہندوستان و پنجاب کس طرح جمع ہوں اور ان کے اخراجات کا کون متکفل ہو۔‘‘ (تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۵۳۸) ان دونو ں قسم کے حملوں کا دندان شکن جواب حضرت اقدس علیہ السّلام نے اس رسالہ میں دیا ہے اور میاں عبدالحق سے جو مباہلہ ہوا تھا اس کے بعد جو اﷲ تعالیٰ کی تائیدات ترقی جماعت اور ظہور نشانات سماوی اور مالی فتوحات وغیرہ کی صورت میں آپ کو حاصل ہوئیں ان کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اور مولوی عبداﷲ غزنوی مرحوم کے اس ارشاد کا بروایت منشی محمد یعقوب ذکر فرمایا ہے کہ ’’ایک نُور آسمان سے اُترا ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔‘‘ (تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۵۴۶) اور بروایت حافظ محمد یوسف ان کے اس کشف کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ