مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxviii of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxviii

14 کام کیاکرتا تھا۔اور اس سے پہلے تریاق القلوب صفحہ ۱۵۸ تک مدت سے چھپی ہوئی پڑی تھی۔جب میں نے ٹائٹل پیج اور آخری ورق لکھا تب یہ کتاب شائع ہوئی۔‘‘ (حقیقۃ النبوۃ۔انوارالعلوم جلدنمبر۲ صفحہ ۳۷۰) اور حضرت مرزا محمد اسماعیل بیگ رضی اﷲ عنہ جو اس وقت پریس مین تھے ان کی شہادت یہ ہے کہ ’’تریاق القلوب میں نے چھاپی اور چھپ کر ایک مدت تک پڑی رہی۔پھر اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ٹائٹل اور صرف آخری ور ق یعنی صفحہ ۱۵۹ تا صفحہ ۱۶۰ چھاپ کر اُسے شائع کر دیا گیا۔‘‘ تفصیل دیکھئے صفحہ (حقیقۃ النبوۃ۔انوارالعلوم جلدنمبر۲ ۳۷۰،۳۷۱،۳۷۲،۳۷۳) اور اسی کے مطابق حضرت میر مہدی حسین رضی اﷲ عنہ خادم المسیح الموعود مہاجر قادیانی اور حضرت مولوی سیّد سرور شاہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت یعقوب علی عرفانی رضی اﷲ عنہ ایڈیٹر الحکم نے شہادتیں دیں۔(حقیقۃ النبوۃ انوارالعلوم جلد۲ صفحہ ۳۷۰ تا ۳۷۳) اس دعویٰ کی صحت پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اور بھی دلائل دیئے ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ کشتی نوح جو ۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی۔اس میں آپ فرماتے ہیں :۔’’مثیل موسیٰ ‘ موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم ابن مریم سے بڑھ کر‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۹، صفحہ ۱۴) اور فرماتے ہیں :۔’’خدا نے مجھے خبردی ہے کہ مسیح محمدؐی مسیح موسوی سے افضل ہے۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۹، صفحہ۱۷) اِسی طرح الحکم ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱ میں ’’یکم اکتوبر کی سیر‘‘ کی ڈائری میں لکھا ہے۔’’مجھے یہ معلوم کرایا گیا ہے کہ محمدی سلسلہ کا خاتم الخلفاء موسوی سلسلہ کے خاتم الخلفاء سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اسی طرح رسالہ دافع البلاء میں جو ۲۳؍ اپریل ۱۹۰۲ء کو شائع ہوا تھا۔آپ نے اپنے آپ کو مسیح ناصری سے افضل قرار دیا ہے۔لیکن تریاق القلوب صفحہ ۱۵۷ پہلا ایڈیشن اور اس جلد کے صفحہ ۴۸۱ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔