مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiv of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxiv

10 مہلت نہیں دیتا۔جون مہینے کی تین تاریخ تک آپ کا اشتہار مخالفانہ پیشگوئیوں کا میرے پاس آ جانا چاہئے ورنہ یہی کاغذ چھاپ دیا جائے گا۔اور پھر آئندہ آپ کو کبھی مخاطب کرنا بھی بے فائدہ ہو گا۔‘‘(تشحیذالاذہان مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ۴۶) اس خط کے جواب میں منشی الٰہی بخش صاحب نے جولائی ۱۸۹۹ء کے پہلے ہفتہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط لکھا جس میں حضور اور سلسلہ احمدیہ کے خلاف دو ایک پیشگوئیاں بھی درج تھیں اس خوف سے کہ لوگوں پر حق و باطل مشتبہ ہو کر نہ رہ جائیں۔جولائی ۱۸۹۹ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تریاق القلوب کتاب لکھنا شروع کی۔اس میں آپ نے ایک فارسی قصیدہ میں مرد کامل کی صفات بیان فرما کر ان آسمانی نشانات کا ذکر فرمایا جو اﷲ تعالیٰ نے آپ کی تائید میں ظاہر فرمائے تھے اور تمام اہلِ مذاہب کو نشان نمائی میں مقابلہ کی دعوت دیتے ہوئے یہ اصل پیش کیا:۔’’ہر ایک مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کر اپنی سچائی پر قائم ہوتاہے اس کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ اس میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں کہ جو اپنے پیشوا اور ہادی اور رسول کے نائب ہو کر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی جس کی پیروی کی جائے جس کو شفیع اور منجی سمجھا جائے وہ اپنے روحانی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۱۳۸) اور فرمایا:۔’’خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اور کوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کر سکے اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دکھلا سکے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ۱۶۷،۱۶۸) اور مسلمان فقراء، صوفیاء اور مشائخ جو آپ کے دعویٰ کے مصدق نہیں تھے ان کے لئے مقابلہ کا یہ سہل طریق بتایا کہ :۔’’ ایک مجمع مقرر کر کے کوئی ایسا شخص جو میرے دعویٰ مسیحیت کو نہیں مانتا اور اپنے