مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 769

مسیح ہندوستان میں — Page xxiii

09 اب ہندو اور عیسائی محققین بھی اس نظریہ کی صحت کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ مسیحؑ صلیب پر نہیں مرے تھے بلکہ زندہ اُتارے گئے تھے۔اور اناجیل سے متعلق یورپ اور امریکہ کے محققین نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اناجیل کے وہ مقامات جن میں حضرت مسیحؑ کے آسمان پر اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔یقیناًالحاقی ہیں اور امریکہ میں بعد تحقیق و تمحیص جو اناجیل شائع کی گئی ہیں ان میں سے وہ آیات نکال دی گئی ہیں۔ستارۂ قیصرہ یہ رسالہ ۲۴؍ اگست ۱۸۹۹ء کو شائع ہوا۔اس رسالہ میں آپ نے اسی مضمون کا نئے پیرایہ میں اعادہ کیا ہے جو تحفہ قیصریہ میں لکھا تھا۔اور درحقیقت یہ رسالہ تحفہ قیصریہ کی یاددہانی ہے۔اس میں بھی انگریزی حکومت کی مذہبی رواداری اور مذہبی آزادی کا جو سب مذاہب کو اس نے یکساں طور پر دی ہوئی تھی ذکر کرتے ہوئے صلیبی عقیدہ کی نہایت احسن پیرایہ میں تردید فرمائی ہے اور اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ پیش کیا ہے۔تریاق القلوب تریا ق القلوب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نہایت ہی بلند پایہ تصنیف ہے۔بابو الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ جو پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معتقدین میں سے تھے اور بعد میں آپ سے منحرف ہو گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے اوہام اور وساوس کو دُور کرنے کے لئے ۱۸۹۸ء میں رسالہ ضرورۃ الامام لکھا مگر وہ اس کے بعد اپنی اصلاح کرنے کی بجائے جادۂ رشد و ہدایت سے اور بھی دُور ہو گئے اور الحکم ۲؍ اگست ۱۸۹۹ء کے مطابق اس نے اپنے چند ساتھیوں منشی عبدالحق پنشنر اکاؤنٹنٹ ‘ خاں بہادر فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر اور حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار نہر سے مل کر ایک فتنہ کی طرح ڈالی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں دو خط لکھے۔دوسرا خط ۱۶؍ جون ۱۸۹۹ء کو بھیجا۔جس میں آپ نے تحریر فرمایا:۔’’پھر اخیر پر خدا تعالیٰ کی قسم آپ کو دیتا ہوں کہ آپ وہ تمام مخالفانہ پیشگوئیاں جو میری نسبت آپ کے دل میں ہوں لکھ کر چھاپ دیں۔اب دس دن سے زیادہ میں آپ کو