مسیح ہندوستان میں — Page xxii
08 کے واقعہ صلیب کے بعد اپنے ملک سے ان کے نصیبین، افغانستان اور ہندوستان کی طرف ہجرت کرنے کا ذکر آتا ہے۔اس باب میں حضرت اقدسؑ نے اسلامی لٹریچر ، بُدھ مت کی کتابوں اور دیگر کتب تاریخ سے مسیحؑ کی سیاحت پر روشنی ڈالی ہے اور اس کتاب کے صفحہ ۶۸ پر اس راستہ کا نقشہ بھی دیا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام نے یروشلم سے ہندوستان آنے کے لئے اختیار کیا تھا اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کشمیر اور افغانستان میں مسیحؑ کی کھوئی ہوئی بھیڑیں آباد تھیں جن کی ہدایت کے لئے اﷲ تعالیٰ نے انہیں مبعوث فرمایا تھا۔اور تریاق القلوب میں حضرت اقدسؑ اس کتاب کے متعلق فرماتے ہیں:۔’’جو شخص میری کتاب ’’‘‘ اول سے آخر تک پڑھے گا گو وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی یا آریہ۔ممکن نہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اس بات کا وہ قائل نہ ہو جائے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کا خیال لغو اور جھوٹ اور افتراء ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۱۴۵) الغرض یہ کتاب ایک نہایت اہم مسئلہ کی علمی تحقیق پر مشتمل ہے جو دنیا کی تین بڑی اقوام سے تعلق رکھتا ہے یعنی یہودی، عیسائی اور مسلمان۔اور اب اﷲ تعالیٰ کے فضل سے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب میں فرمایا تھا کہ اس پیشگوئی میں کہ مسیح موعود کسر صلیب کرے گا یہی اشارہ تھا :۔’’کہ مسیح موعود کے وقت میں خدا کے ارادہ سے ایسے اسباب پیدا ہو جائیں گے جن کے ذریعہ سے صلیبی واقعہ کی اصل حقیقت کھل جائے گی تب انجام ہو گا اور اس عقیدہ کی عمر پوری ہو جائے گی۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۶۴) چنانچہ اس کتاب سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے میں نے اثنائے قیام لندن میں اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ہے WHERE DID JESUS DIE اس وقت تک اس کتاب کے چار ایڈیشن نکل چکے ہیں اور ملیالم اور ڈچ زبانوں میں بھی اس کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔فرانسیسی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔اس کتاب میں مَیں نے بعض ان کتب اور شہادات کا ذکر کیا ہے جو اس زمانہ میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں صلیبی عقیدہ کے بطلان کے لئے ظاہر کی ہیں۔اور