مسیح ہندوستان میں — Page xxi
07 اور فرماتے ہیں :۔’’اس کتاب کو میں اس مراد سے لکھتا ہوں کہ تا واقعات صحیحہ اور نہایت کامِل اور ثابت شدہ تاریخی شہادتوں اور غیر قوموں کی قدیم تحریروں سے ان غلط اور خطرناک خیالات کو دُور کروں جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے اکثر فرقوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پہلی اور آخری زندگی کی نسبت پھیلے ہوئے ہیں۔(۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۳) اور فرماتے ہیں :۔’’سو میں اس کتاب میں یہ ثابت کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے اور نہ کبھی امید رکھنی چاہئے کہ وہ پھر زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے بلکہ وہ ایک سو بیس برس کی عمر پا کر سرینگر کشمیر میں فوت ہو گئے اور سرینگر محلہ خانیار میں ان کی قبر ہے اور میں نے صفائی بیان کے لئے اس تحقیق کو دس۱۰ باب اور ایک خاتمہ پر منقسم کیا ہے۔‘‘ (آگے ان کی تفصیل درج فرمائی ہے) (۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۱۴) گو حضور کا ارادہ دس باب اور ایک خاتمہ لکھنے کا تھا مگر بعد میں صرف مندرجہ ذیل چار ابواب پر ہی اکتفا کی۔باب اول :۔مسیح کے صلیبی موت سے بچنے پر انجیلی دلائل۔باب دوم :۔اُن شہادتوں کے بیان میں جو حضرت مسیحؑ کے صلیبی موت سے بچ جانے کی نسبت قرآن و حدیث سے ملتی ہیں۔باب سوم :۔اُن شہادتوں کے بیان میں جو طب کی کتابوں سے لی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ اُتر آئے اور ان کے زخموں کے علاج کے لئے ان کے حواریوں نے یہ مرہم تیار کی جس کا نام ’’مرہم عیسیٰ‘‘ ہے۔باب چہارم :۔اُن شہادتوں کے بیان میں جو تاریخی کتب سے لی گئی ہیں جن میں حضرت مسیح علیہ السلام