مسیح ہندوستان میں — Page xx
06 بھی بے فائدہ۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں باب۱۵ آیت ۱۴ پس ضروری تھا کہ مسیح موعود جس کا عظیم الشان کام کسر صلیب قرار دیا گیا تھا۔وہ اس صلیبی فتنہ کو پاش پاش کرتا۔اور اس صلیبی عقیدہ کا جو مسئلہ کفارہ کی بنیاد ہے یا بالفاظ دیگر عیسائیت کی جان ہے۔دلائل و براہین سے باطل ہونا ثابت کرتا۔اس مسئلہ سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اگرچہ اپنی دوسری مؤلفات میں بھی ذکر فرمایا ہے۔لیکن اس کتاب میں اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔حضرت اقدسؑ فرماتے ہیں:۔’’اس کتاب کا اصل مدعا مسلمانوں اور عیسائیوں کی اس غلطی کی اصلاح ہے جو ان کے بعض اعتقادات میں دخل پاگئی ہے۔۔۔۔کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ چلے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔اور کسی وقت آخری زمانہ میں پھر زمین پر نازل ہوں گے اور ان دونوں فریق یعنی اہلِ اسلام اور مسیحیوں کے بیان میں فرق صرف اتنا ہے کہ عیسائی تو اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صلیب پر جان دی اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ گئے اور اپنے باپ کے دائیں ہاتھ جابیٹھے اور پھر آخری زمانہ میں دنیا کی عدالت کے لئے زمین پر آئیں گے۔۔۔۔۔۔تب ہر ایک آدمی جس نے اس کو یا اس کی ماں کو بھی خدا کر کے نہیں مانا پکڑا جائے گاا ور جہنّم میں ڈالا جائے گا جہاں رونا اور دانت پیسنا ہو گا۔مگر مسلمانوں کے مذکورہ بالا فرقے کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ صلیب پر مرے بلکہ اس وقت جبکہ یہودیوں نے ان کو مصلوب کرنے کے لئے گرفتار کیا۔خدا کا فرشتہ ان کو مع جسم عنصری آسمان پر لے گیا اور اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں۔۔۔وہ آخری زمانہ میں دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے منارہ کے قریب یا کسی اور جگہ اُتریں گے۔۔۔۔۔۔اور بجز ایسے شخص کے جو بلا توقف مسلمان ہو جائے اور کسی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد نمبر۱۵ صفحہ ۵،۶)