مسیح ہندوستان میں — Page 70
روحانی خزائن جلد ۱۵ مسیح ہندوستان میں کا فاصلہ ہے۔ لیکن حضرت مسیح نے بڑی عظمندی سے افغانستان کا راہ اختیار کیا تا اسرائیل کی کھوئی بھیڑیں جو افغان تھے فیضیاب ہو جائیں۔ اور کشمیر کی مشرقی حد ملک تبت سے متصل ہے اس لئے کشمیر میں آکر بآسانی تبت میں جاسکتے تھے۔ اور پنجاب میں داخل ہو کر ان کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ قبل اس کے جو کشمیر اور تبت کی طرف آدیں ہندوستان کے مختلف مقامات کا سیر کریں۔ سو جیسا کہ اس ملک کی پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں یہ بات بالکل قرین قیاس ہے کہ حضرت مسیح نے نیپال اور بنارس وغیرہ مقامات کا سیر کیا ہوگا اور پھر جموں سے یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر کی طرف گئے ہوں گے ۔ چونکہ وہ ایک سرد ملک کے آدمی تھے ۔ اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ ان ملکوں میں غالبا وہ صرف جاڑے تک ہی ٹھہرے ہوں گے اور اخیر مارچ یا اپریل کے ابتدا میں کشمیر کی طرف کوچ کیا ہوگا اور چونکہ وہ ملک ہلا د شام سے بالکل مشابہ ہے اس لئے یہ بھی یقینی ہے کہ اس ملک میں سکونت مستقل اختیار کر لی ہوگی۔ اور ساتھ اس کے یہ بھی خیال ہے کہ کچھ حصہ اپنی عمر کا افغانستان میں بھی رہے ہوں گے اور کچھ بعید نہیں کہ وہاں شادی بھی کی ہو۔ افغانوں میں ایک قوم عیسی خیل کہلاتی ہے۔ کیا تعجب ہے کہ وہ حضرت عیسی کی ہی اولاد ہوں مگر افسوس کہ افغانوں کی قوم کا تاریخی شیرازه نهایت درہم برہم ہے اس لئے ان کے قومی تذکروں کے ذریعہ سے کوئی اصلیت پیدا کرنا نہایت مشکل امر ہے۔ بہر حال اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ افغان بنی اسرائیل میں سے ہیں جیسا کہ کشمیری بھی بنی اسرائیل میں سے ہیں اور جن لوگوں نے اپنی تالیفات میں اس کے برخلاف لکھا ہے انہوں نے سخت دھوکا کھایا ہے اور فکر دقیق سے کام نہیں لیا۔ افغان اس بات کو مانتے ہیں کہ وہ قیس کی اولاد میں سے ہیں اور قیس بنی اسرائیل میں سے ہے۔ خیر اس جگہ اس بحث کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔ ہم اپنی ایک کتاب میں اس بحث کو کامل طور پر لکھ چکے ہیں ۔ اس جگہ صرف حضرت مسیح کی سیاحت کا ذکر ہے جو نصیبین کی راہ سے افغانستان میں ہو کر