مسیح ہندوستان میں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 769

مسیح ہندوستان میں — Page 71

روحانی خزائن جلد ۱۵ 21 مسیح ہندوستان میں اور پنجاب میں گذر کر کشمیر اور تبت تک ہوئی۔ اس لمبے سفر کی وجہ سے آپ کا نام نبی سیاح بلکہ ۲۹ سیاحوں کا سردار رکھا گیا۔ چنانچہ ایک اسلامی فاضل امام عالم علامہ یعنی عارف باللہ ابی بکر محمد بن محمد ابن الوليد الفبرى الطرطوشی المالکی جو اپنی عظمت اور فضیلت میں شہرہ آفاق ہیں اپنی کتاب سراج الملوک میں جو مطبع خیر یہ مصر میں ۱۳۰۶ھ میں چھپی ہے یہ عبارت حضرت مسیح کے حق میں لکھتے ہیں جو صفحہ ۶ میں درج ہے۔ این عیسی روح الله و كلمته رأس الزاهدين و امام السائحين ، یعنی کہاں ہے عیسی روح اللہ و کلمۃ اللہ جو زاہدوں کا سردار اور سیاحوں کا امام تھا۔ یعنی وہ وفات پا گیا اور ایسے ایسے انسان بھی دنیا میں نہ رہے ۔ دیکھو اس جگہ اس فاضل نے حضرت عیسی کو نہ صرف سیاح بلکہ سیاحوں کا امام لکھا ہے۔ ایسا ہی لسان العرب کے صفحہ ۴۳۱ میں لکھا ہے ۔ نہ بلکہ کا لکھا صفحہ لکھا ہے۔ قيل سُمّي عيسى بمسيح لانه كان سائحًا في الارض لا يستقر “ یعنی عیسی کا نام مسیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میں سیر کرتا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا۔ یہیں مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو یعنی اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی خیر و برکت کو پیدا کرتا ہو اور یہ نام حضرت عیسی کو دیا گیا اور جس کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ یہ نام دیتا ہے۔ اور اس کے مقابل پر ایک وہ بھی مسیح ہے جو شر اور لعنت کے ساتھ مسح کیا گیا یعنی اس کی فطرت شر اور لعنت پر پیدا کی گئی یہاں تک کہ اس کا چھونا بھی شر اور لعنت اور ضلالت پیدا کرتا ہے اور یہ نام مسیح دجال کو دیا گیا اور نیز ہر ایک کو جو اس کا ہم طبع ہو اور یہ دونوں نام یعنی مسیح سیاحت کرنے والا اور مسیح برکت دیا گیا یہ با ہم ضد نہیں ہیں اور پہلے معنی دوسرے کو باطل نہیں کر سکتے کیونکہ خدائے تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ ایک نام کسی کو عطا کرتا ہے اور کئی معنی اس سے مراد ہوتے ہیں اور سب اس پر صادق آتے ہیں۔ اب خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا سیاح ہونا